کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) عالمی یومِ آگاہی برائے سونامی کے موقع پر جامعہ کراچی کے طلبہ نے ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی دفاعی نظام کی بحالی کے عزم کے ساتھ کراچی کے ساحل کے قریب کیدرو جزیرہ (Kaderu Island)پر 2000 سے زائد مینگرووز کے پودے لگائے۔
جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سو سے زائد طلبہ نے ”مینگروو کریو“ (Mangrove Crew’s)کے زیرِ اہتمام ایک منفرد ماحولیاتی و تعلیمی سفاری میں حصہ لیا، جس میں شجرکاری مہم کے ساتھ ساتھ ایکو ٹورزم اور قدرتی آفات سے آگاہی کے سیشن بھی شامل تھے۔یہ اقدام ساحلی بستیوں اور سمندری حیات کے تحفظ کے لیے ایک کمیونٹی پر مبنی کوشش ہے، جو بڑھتے ہوئے سمندری طوفانوں، لہروں کے تیز دباؤ اور بڑھتی ہوئی سطحِ سمندر کے خطرات سے دوچار ہیں۔ مینگرووز کے ختم ہونے سے یہ قدرتی حفاظتی حصار کمزور پڑ گیا ہے۔چیئرمین ٹاؤن میونسپل کارپوریشن ابراہیم حیدری، نذیر احمد بھٹو نے نوجوانوں کی شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں مینگرووز کی بحالی ایک قومی ضرورت بن چکی ہے۔ حکومت اور عوام دونوں کو مل کر ہنگامی بنیادوں پر قدرتی آفات خصوصاً سونامی جیسے خطرات کے خلاف لچک پیدا کرنے کے لیے کوششیں تیز کرنی چاہئیں۔
ماہی گیر سماجی سنگت کے چیئرمین یونس خاصخیلی نے کہا کہ مینگرووز سمندری حیات اور مقامی ماہی گیری کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔آج لگائے گئے یہ 2000 مینگرووز مستقبل میں مقامی سبز حفاظتی پٹی کو بحال کریں گے اور ساحلی آبادیوں کو سمندری لہروں کے دباؤ سے بچائیں گے۔ ایسی سرگرمیوں کا تسلسل ہی ماحولیاتی تحفظ کی ضمانت ہے۔مینگروو کریو کی سپروائزر اور جامعہ کراچی کے شعبہ ابلاغ عامہ کی استاد، ثمینہ قریشی نے بتایا کہ یہ طلبہ پر مبنی اقدام ساحلی لچک بڑھانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔
اس مہم کا مقصد کمیونٹی کی شمولیت کے ذریعے مینگرووز کی شجرکاری، رہنمائی پر مبنی سیکھنے کے مواقع اور ایکو ٹورزم کو فروغ دینا ہے۔ کراچی کا ساحلی خطہ بڑھتے ہوئے طوفانوں، لہروں کے دباؤ اور سطح سمندر کے اضافے سے شدید خطرات کا شکار ہے اور مینگرووز قدرتی رکاوٹ کے طور پر ان خطرات کو کم کرتے ہیں۔جامعہ کراچی کے شرکاء نے اس تجربے کو ماحولیاتی شعور بیدار کرنے اور نوجوانوں میں زمینی و سمندری ماحولیاتی ذمہ داری پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔ طلبہ نے اسے صدقہ جاریہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام انسان اور فطرت دونوں کے لیے نفع بخش ہے۔
یہ مہم اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف ایس ڈی جی 13 (آب و ہوا کے لیے اقدام)، ایس ڈی جی 14 (سمندری حیات) اور ایس ڈی جی 15 (بری حیات) کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگی۔ہر سال 5 نومبر کو عالمی یومِ آگاہی برائے سونامی منایا جاتا ہے تاکہ قدرتی آفات کے خطرات سے بچاؤ اور عوامی آگاہی کو فروغ دیا جا سکے۔


