کراچی(ایچ آراین ڈبلیو ) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے اسٹیئرنگ کمیٹی کی میٹنگ میں گفتگو کرتے ہوئے ایم نائن سپر ہائی وے پر واقع غیر قانونی افغان بستی کے خاتمے کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں قائم تمام غیر قانونی اور بے قاعدہ بستیوں کو قانون کے مطابق ریگولرائز کیا جائے ۔ افغان بستی جرائم، منشیات فروشی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کا مرکز بن چکی تھی، اور اس کا خاتمہ شہریوں کے لیے ایک خوش آئند اقدام ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ مذکورہ اراضی پر ایک جدید عوامی پارک قائم کیا جائےتاکہ شہر میں پارکوں اور سبز مقامات کی کمی کو دور کیا جا سکے۔ کراچی میں سینکڑوں ایسی بستیاں ہیں جو ریگولرائزیشن کی منتظر ہیں۔ زمین پرقبضےکاکاروبار منظم انداز میں جاری ہے، جہاں سرکاری و نجی زمینوں پر قبضہ کر کے کچی آبادیاں بنا دی جاتی ہیں۔ حکومت اورکےڈی اے فوری طور پر کم لاگت ہاؤسنگ اسکیموں کا آغاز کرے تاکہ عوام کو رہائش کے بہتر مواقع میسر آئیں اور غیر قانونی آبادکاری کی حوصلہ شکنی ہو۔ پی ڈی پی چیئرمین نےزوردیا کہ کچی آبادیوں کو ریگولرائز کر کے انہیں ترقی یافتہ بستیوں کے ہم پلہ لایا جا سکتا ہے۔ حکومت کوچاہیےکہ وہ کراچی کےماسٹر پلان کے مطابق کام کرے اور تمام بستیوں کو شہری سہولیات سے آراستہ کرے۔ کراچی کو درجنوں نئی کم لاگت ہاؤسنگ اسکیموں کی ضرورت ہے، جس کے لیے گڈاپ اور بن قاسم جیسے علاقوں میں موجود بنجر زمینوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ شہر کے تمام مضافاتی علاقوں کو مرکزی کراچی سے منسلک کرنے کے لیے روڈ اور ریل نیٹ ورک کو وسعت دی جائے۔ اس ضمن میں کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی اور بی آر ٹی منصوبوں پر تیزی سے کام ناگزیر ہے۔ گرین لائن بی آر ٹی کے دوسرے مرحلے پر فوری کام شروع کیا جائے تاکہ شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ الطاف شکور نے امید ظاہر کی کہ افغان بستی کی خالی زمین پر ایک خوبصورت پارک قائم کیا جائے گا اور شہر بھر میں غیر قانونی بستیوں کی ریگولرائزیشن کا عمل فوری طور پر شروع کیا جائے گا-
103


