95

**وزیراعلیٰ سندھ کی زیر صدارت پی پی پی پالیسی بورڈ کا 48واں اجلاس — نبیسر–وجیہار واٹر سپلائی پراجیکٹ کے لیے ماڈل ایکوا کلچر پارک کی منظوری**

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت **پی پی پی پالیسی بورڈ** کا **48واں اجلاس** وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی سید قاسم نوید، ایم پی اے قاسم سومرو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، کمشنر کراچی حسن نقوی، ایس ایم بی آر خالد حیدر شاہ، سیکریٹری فنانس فیاض جتوئی، چیئرمین ایس آر بی ڈاکٹر واصف میمن، سیکریٹری ٹرانسپورٹ و ڈی جی پی پی پی یونٹ اسد ضامن اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں **نبیسر–وجیہار واٹر سپلائی پراجیکٹ** کے لیے **ماڈل ایکوا کلچر پارک** کے قیام کی منظوری دی گئی۔ منصوبہ **پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP)** ماڈل کے تحت عمل میں لایا جائے گا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ **SEZ مینجمنٹ کمپنی (SEZMC)** ضلع ٹھٹھہ کے ساحلی علاقے میں ایکوا کلچر پارک کے قیام کو یقینی بنائے گی۔

اس منصوبے کا مقصد **تالاب، ہیچری، سمندری خوراک کی پروسیسنگ یونٹس، گرین انرجی سلوشنز** اور **بین الاقوامی برآمدی مواقع** کو فروغ دینا ہے۔ منصوبے سے برآمدات میں اضافہ، پائیدار کاشتکاری، گھریلو پیداوار میں بہتری، روزگار کے مواقع، دیہی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی ممکن ہوگی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ایکوا کلچر انڈسٹری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ **2022 میں عالمی سطح پر ایکوا کلچر کی پیداوار 223 ملین ٹن** تک پہنچ چکی ہے، اور **2030 تک پاکستان میں مچھلی کی طلب میں تین گنا اضافہ** متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ **سندھ کی 350 کلومیٹر ساحلی پٹی** اور **ملک کے 71 فیصد سمندری وسائل** صوبے کو بے پناہ ترقیاتی مواقع فراہم کرتے ہیں۔

بورڈ نے منصوبے کی **فزیبلٹی اسٹڈی اور اسٹرکچرنگ** کے لیے ایڈوائزرز کی خدمات حاصل کرنے کی غرض سے **پی ڈی ایف فنڈنگ** کی منظوری بھی دی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان اقدامات سے نہ صرف برآمدات میں تیزی آئے گی بلکہ سندھ کی **سمندری معیشت** بھی مستحکم ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پائیدار ایکوا کلچر پارک کا قیام **ساحلی کمیونیٹیز کو بااختیار** بنائے گا، جبکہ اس منصوبے کے ذریعے **تھر بلاک-I پاور پلانٹس** کو **45 کیوسک پانی** کی فراہمی بھی ممکن ہو پائے گی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پانی کی فراہمی کے لیے **کنوؤں کی تعمیر کا عمل جاری ہے** اور منصوبہ **اکتوبر 2025 تک کمرشل آپریشن** میں آجائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مستحکم شرح مبادلہ اور کم فنانسنگ لاگت سے منصوبے میں نمایاں بچت ہوگی، اسی وجہ سے اسے **بجٹ میں شامل** کیا گیا ہے۔

بورڈ نے بہتر کارکردگی اور بروقت اقدامات پر **سرکاری افسران اور پروجیکٹ کنسیشنر** کی تعریف کی۔ وزیراعلیٰ نے **ہاکرو دریا کے قریب** رہنے والی آبادیوں کو پانی کی فراہمی کے لیے **تکنیکی کمیٹی کے قیام** کی منظوری بھی دی۔

آخر میں بورڈ نے **تھر کی بجلی کی پیداوار** اور **سندھ کی توانائی کے تحفظ** کے لیے قابل اعتماد **پانی کے بنیادی ڈھانچے** کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کیا، اور منصوبے کی **اپ ڈیٹڈ تعمیراتی ٹائم لائن** کی توثیق کی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے آخر میں **تھر واٹر سپلائی پراجیکٹ کے لیے ماڈل ایکوا کلچر پارک کے قیام کی باقاعدہ منظوری** دے دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں