کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)جامعہ کراچی کے شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن میں وزڈمتھراپی سینٹرکا افتتاح گزشتہ روزکیاگیا۔یہ منصوبہ لکی ٹیکسٹائل ملز کی جانب سے کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبلیٹی (CSR) پروگرام کے تحت قائم کیا گیا ہے، جو نوجوانوں میں تعلیمی معیار، جذباتی فلاح و بہبود اور ذہنی ارتقاء کو فروغ دینے کے عزم کا مظہر ہے۔وزڈم تھراپی سینٹر کا تصور تعلیم، ترقی اور ہمہ جہت تربیت کے لیے ایک مشترکہ و جامع نقطہ نظر کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ منصوبہ معروف دانشور اور مصنف پروفیسر اشفاق احمد کے مشہور پروگرام ”زاویہ” سے متاثر ہے، جس کا مقصد قومی نوجوانوں کی ذہنی تربیت، رہنمائی اور شعوری نشوونما کرنا ہے، تاکہ وہ ایک باشعور، قابل اور اقدار پر مبنی فرد کی حیثیت سے معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
افتتاحی تقریب کی صدارت جامعہ کراچی کے شعبہ نفسیات کی سابق چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر انیلاامبر ملک نے کیجبکہتقریب کے مہمانِ خصوصی جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی تھے۔دیگر کلیدی مقررین میں شعبہ پبلک ایڈمنسٹریشن کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر صائمہ اختر، الکوثر یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ لیکچرر شعیب احمد صدیقی، لکی ٹیکسٹائل ملز کے مشیر برائے انتظامیہ احسن فرید پراچہ، اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ایڈیشنل کمشنر کاشف حفیظ شامل تھے۔دوسری جانب جامعہ کراچی اور جامعہ کراچی المنائی ایسوسی ایشن ہیوسٹن، ٹیکساس، امریکہ کے درمیان، انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے تعاون سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب پیر کے روزوائس چانسلر سیکریٹریٹ جامعہ کراچی میں منعقد ہوئی۔مفاہمتی یادداشت پرجامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، جامعہ کراچی المنائی ایسوسی ایشن ہیوسٹن، ٹیکساس، امریکہ کے صدر فہیم آخوند، اور انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے صدر ڈاکٹر محسن علی نے کئے۔
اس معاہدے کا مقصد باہمی تعاون کو فروغ دینا اور طلبہ کے لیے تعلیمی ترقی کی راہیں مزید ہموار کرنا ہے۔ مفاہمتی یادداشت کے مطابق، جامعہ کراچی المنائی ایسوسی ایشن ہیوسٹن، ٹیکساس، امریکہ سال 2026 میں 100 لیپ ٹاپس فراہم کرے گا، جو ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے مستحق طلبہ میں تقسیم کیے جائیں گے۔
معاہدے کے تحت، لیپ ٹاپس کی تقسیم اور منتخب طلبہ کی فہرست سازی کا عمل مکمل شفافیت کے ساتھ کراچی یونیورسٹی ٹیچرز سوسائٹی کی معاونت سے انجام دیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کی ڈیجیٹل ذرائع تک رسائی بہتر بنانا، تعلیمی معیار کو فروغ دینا، اور تحقیقی سرگرمیوں میں بہتری لانا ہے۔


