79

قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے سائنسی علم، تربیت اور ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا ہے کہ قدرتی آفات دنیا کے ہر خطے میں آتی ہیں، لیکن ان سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے سائنسی و تکنیکی علوم، پیشگی تربیت اور معلومات کی دستیابی نہایت ضروری ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ہم اب بھی صرف جذباتی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا تصور رکھتے ہیں، جو کہ مؤثر حل نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترقی یافتہ ممالک نے خلائی سائنس و ٹیکنالوجی کو قدرتی آفات کی پیش گوئی، نگرانی اور نقصانات میں کمی کے لیے بھرپور طور پر استعمال کیا ہے، جبکہ پاکستان میں اس اہم شعبے کو تاحال نظرانداز کیا جا رہا ہے، جو لمحہ فکریہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمینٹل اسٹڈیز جامعہ کراچی اور الخدمت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام بین الاقوامی عالمی یوم برائے تدار ک قدرتی آفات 2025 کے موقع پر انسٹی ٹیوٹ ہذا میں منعقدہ سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اگرچہ پاکستان میں وفاقی اور صوبائی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز موجود ہیں، لیکن ان کی عملی کارکردگی واضح طور پر نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں دفاتر کی بہتات ہے مگر نتائج نہ ہونے کے برابر ہیں، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں دفاتر کم اور نتائج نمایاں ہوتے ہیں۔ ہمیں اس طرزِ عمل کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی نے مزیدکہا کہ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں کو مکمل طور پر فلاحی اداروں کے سپرد کر دیا ہے، جبکہ ریاست خود اپنے فرائض ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل صرف فلاحی تنظیموں کے بھروسے ممکن نہیں، ریاست کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا سنجیدگی سے ادراک اور ادائیگی کرنی ہوگی۔موجودہ حالات میں صرف شعور بیدار کرنا کافی نہیں، بلکہ اجتماعی سطح پر پالیسی سازی، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی شرکت کے ذریعے مستقل بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ماحولیاتی بحران اور دیگر سماجی مسائل پر مؤثر قابو پایا جا سکے۔

اس موقع پر ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمنٹل اسٹڈیز جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر فرخ نواز نے کہا کہ ہم نے ورٹیکس HSE پرائیویٹ لمیٹڈ کے تعاون سے ایک کورس کا آغاز بھی کیا ہے، اور ورٹیکس HSE محکمہ کی سیفٹی پروٹوکولز میں مدد فراہم کر رہا ہے۔جس میں ورٹیکس HSE پرائیویٹ لمیٹڈ ایمرجنسی ریسپانس، ریسکیو اور فائر سیفٹی پر سرٹیفائیڈ کورس کروا رہا ہے۔ہم سید حسان حبیب، ڈائریکٹر ورٹیکس HSE پرائیویٹ لمیٹڈ کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جو اس کام کو انتہائی ذمہ داری کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔

مشہور ماہرِ ماحولیات رفیع الحق نے سیلاب اور اس کے ماحولیاتی نظام پر اثرات، نقصانات پر پریزنٹیشن پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حالیہ سیلابوں کے باعث کم از کم 18,000 مربع کلومیٹر زرعی اراضی تباہ ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں شدید اضافہ اور مالیاتی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ حکومتِ پاکستان کے تخمینے کے مطابق، متاثرہ 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے کم از کم 10 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

رفیع الحق نے مزیدکہا کہ سیلاب کے دوران مویشی اور ماہی گیری کے شعبے کو شدید نقصان پہنچتا ہے، جن میں جانوروں کی ہلاکت اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کا پھیلاؤ شامل ہے۔ یہ صورتِ حال غذائی وسائل کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

قبل ازیں سیمینار کے فوکل پرسن اور انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمینٹل اسٹڈیز جامعہ کراچی اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر وقاراحمد نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمینٹل اسٹڈیز جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر فرخ نواز نے کلمات تشکر اداکرتے ہوئے سیمینار کے اغراض ومقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں