کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے آرٹس کونسل انسٹیٹیوٹ آف آرٹ اینڈ کرافٹ کے زیر اہتمام شارٹ کورسز میں کامیاب ہونے والے طلباءکے لیے ”تقسیم اسناد تقریب 2025“ کا انعقاد اسٹوڈیو IIمیں کیا گیا جس میں کامیاب طلباءمیں اسناد تقسیم کی گئیں، تقریب میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے خصوصی شرکت کی جبکہ ٹیلی وژن ڈائریکٹر ،پروڈیوسراور ایکٹر خالد احمد، مصور شاہد رسام، گلوکار احسن باری، عماد الرحمن ، مانی چاﺅ اور محمد ذیشان نے بھی اظہارِ خیال کیا۔ اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ میں بہت خوش ہوں یہ ادارہ ہم نے ایک ایک اینٹ رکھ کے بنایا ہے ، یہاں کوئی بھی نوجوان بچہ جو صلاحیت مند ہے اور پڑھنا چاہتا ہے آرٹس کونسل کے دروازے اس کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔ آپ کسی بھی انسٹیٹیوٹ میں جائیں یہ ادارہ آپ کو یاد رہے گا، آج کی تقریب یادگار ہے، ہم آپ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں، میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر زندگی میں آگے بڑھنا ہے تو جنون کی حدوں کو پار کرنا ہوگا، آج یہاں کے طالب علموں کی پینٹنگ پوری دنیا میں فروخت کی جارہی ہے، آرٹس کونسل میں زندگی تبدیل ہوتی ہے، ہمارے پاس بہت بچے آتے ہیں ، زندگی میں بہت سارے مسائل ہیں ،جو مشکل راستے کا انتخاب کرتا ہے وہی دنیا جیتا ہے ، ٹیلی وژن ڈائریکٹر ،پروڈیوسراور ایکٹر خالد احمد اداکاری پڑھنے ، لکھنے اور سمجھنے کی چیز ہے ، یہاں آکر آپ کو اندازہ ہوا ہوگا کہ کیا عنا صر ہوتے ہیں جن سے اداکار بنا جاتا ہے ، اس کورس سے آپ نے بہت کچھ سیکھا ہوگا ، وائس ، موومنٹ ، اسپیچ کی پریکٹس ،کیا کریں کیونکہ کرتے کرتے یہ چیز پکی ہوتی ہے۔ معروف مصور شاہد رسام نے کہاکہ یہ ابتدائے عشق ہے، پہلا قدم اٹھاتے ہی منزل نظر آتی ہے ، آج پچھلے بیج کے طالب علم بھی موجود ہیں جو آج اسٹار ہیں، جو لگن ان تھی وہ آپ میں بھی ہو تو آپ بھی بلندیوں کو چھو سکتے ہیں۔ معروف گلوکار احسن باری نے کہاکہ میں ہم آرٹس اور کلچر کمیونٹی کا حصہ ہیں ، میں بچوں سے کہوں گا کہ اور آگے بڑھیں ، آرٹس کونسل میوزک ، تھیٹر، ڈانس ،آرٹ سمیت مختلف شعبوں میں بہترین خدمات انجام کررہا ہے طلباءکو اس سے فائدہ اٹھانا چاہیے، ہماری فیکلٹی میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو ہمارے طلباءہوا کرتے تھے۔ ڈانس اکیڈمی کے مانی چاو¿نے کہاکہ میں یہاں بیٹھے والدین سے کہوں گا کہ اپنے بچوں کو ڈانس کی طرف آنے دیں، آرٹس کونسل بچے مکمل آزادی کے ساتھ فن کو سیکھتے ہیں۔ عماد الرحمان نے کہاکہ ہمارے پاس اکیڈمیز ہیں ، میں میوزک کے طالب علموں سے کہوں گا کہ اس سفر کو جاری رکھیں ، جو میوزک آپ سیکھتے ہیں اس کو پروڈیوس کرنا ہوتا ہے ، آرٹس کونسل پاکستان کا واحد ادارہ ہے جہاں میوزک پروڈکشن سیکھائی جا رہی ہے۔ محمد ذیشان نے کہاکہ میں یہاں والدین کو مبارکباد دیتا ہوں کہ انہوں نے اپنے بچوں کے ساتھ بہت تعاون کیا، آرٹ کی خوبصورت بات ہے کہ اس کی ریٹائر منٹ کی کوئی حد نہیں ہوتی ، آج آرٹس کونسل فائن آرٹ کے بچوں کا شو ملک کی مختلف بڑی گیلری میں ہوا، اگر ہمارے پاس 10گیلری ہیں ان میں ہمارے 6 بچوں کا کام دکھایا جا رہا ہوتا ہے جو قابل فخر بات ہے۔ مختلف شعبوں میں جن بچوں نے اسناد وصول کی ان میں فائن آرٹ کے کیلی گرافی، ڈرائنگ، پینٹنگ 23، ٹیکسٹائل ڈیزائن 3، گرافک ڈیزائن 20، میوزک کے گٹار، وائلن، ووکل، کی بورڈ، آڈیو پروڈکشن 38، تھیٹر 29 طلباءشامل ہیں۔
89


