کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہا ہے خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی انسانیت کی فلاح و بہبود کےلیے بے پناہ امکانات رکھتی ہے اور اس کے ذریعے ہم ان سماجی مسائل کا حل تلاش کر سکتے ہیں جن کا ہمیں آج سامنا ہے۔ خلائی سائنس نہ صرف سائنسی ترقی کا محوربن چکی ہے بلکہ انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے نوجوان اس شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور تحقیق و جدت کے نئے راستے اختیار کریں۔انہوں نےکہا کہ ترقی یافتہ اقوام نےخلائی سائنس وٹیکنالوجی کواپنی سماجی ترقی کےلئےموثر طریقے سے استعمال کیا ہے، خصوصاً صحت اور طب کے شعبے میں، جو کہ ایک نہایت اہم میدان ہے۔ اسی طرح نقل و حمل، عوامی تحفظ، صارفین کی ضروریات، توانائی اور ماحولیات، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، اور صنعتی پیداوار جیسے شعبوں میں بھی خلائی ٹیکنالوجی نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔تاہم پاکستان میں خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کا استعمال اب تک محدود پیمانے پر ہی ہوا ہے، جو کہ زیادہ تر ماحولیاتی نگرانی، موسم کی پیش گوئی، اور قدرتی وسائل کے انتظام تک محدود رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نےانسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی کےزیراہتمام چا ئنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں عالمی خلائی ہفتہ 2025 ء کی مناسبت سے منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان: ”اسپیس سائنس اینڈٹیکنالوجی“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر خالدعراقی نے اس بات پرزوردیاکہ پاکستانی سائنسدانوں کو انفرادی کوششوں کی بجائے اجتماعی اور باہمی تعاون کے ذریعے تحقیق و ترقی کو فروغ دینا چاہیے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ مختلف شعبوں میں کام تو کر رہے ہیں، لیکن اس میں باہمی ربط اور تعاون کی کمی ہے۔ اگر ہم سب مل کر کام کریں، ایک پلیٹ فارم پر آئیں اور معاشرتی مسائل کو مشترکہ طور پر حل کریں۔جیسے کہ سمندر کی سطح میں اضافہ، ہیٹ ویواور اسلام آباد میں حالیہ غیر متوقع بارشوں کا سلسلہ تو ہم ملک کو درپیش ان ماحولیاتی چیلنجزسے بہتر انداز میں نمٹ سکتے ہیں۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے کہا کہ یہ کانفرنس بین الاقوامی خلائی ہفتہ کے تحت منعقد کی گئی ہے، جس کا موضوع اس سال ”خلاء اور ماحولیاتی تبدیلی” ہے۔ یہ موضوع اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے ہدف نمبر 13 کے عین مطابق ہے، جو کہ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس ٹیکنالوجی اسلام آباد کے پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے اینٹینا کے استعمال اور اس کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اینٹینا نہ صرف توانائی کو تمام سمتوں میں پھیلنے سے روکتا ہے بلکہ اسے مخصوص سمت میں مرکوز بھی کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اینٹینا کی یہ خاصیت جسے ‘ڈائریکٹیوٹی’ یا ‘گین’ کہا جاتا ہے، اسے اینٹینا کی سب سے اہم خصوصیت سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہی خصوصیت اینٹینا کو مختلف مواصلاتی نظاموں میں موثر اور کارآمد بناتی ہے۔
ماہر فیروزہ رحمت اللہ، جو دوشنبہ، تاجکستان سے آن لائن پریزنٹیشن دے رہی تھیں نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران، سنگلوخ بین الاقوامی فلکیاتی رصدگاہ، انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹروفزکس، نیشنل اکیڈمی آف سائنسز آف تاجکستان، طویل مدتی دم دار سیاروں (comets) کی منظم نظری مشاہدات (optical observations) کر رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہماری تحقیق کا مرکز دم دار سیاروں کی گرد و غبار کے رنگ میں وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلیاں ہیں، جو کئی دنوں پر محیط مشاہدات سے معلوم ہوتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں مسلسل نگرانی کے ذریعے معلوم کی جاتی ہیں، جس میں یہ فائدہ ہوتا ہے کہ ایسے فاصلوں پر گیسوں کے اخراج (gaseous emissions) کی روشنی میں شراکت نہایت کم ہوتی ہے۔ان نتائج سے نہ صرف دم دار سیاروں کی سرگرمی کے طریقہ کار اور گرد و غبار کی تبدیلی کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ سیارے نامیاتی مرکبات اور پانی کو شمسی نظام کے اندرونی حصے تک پہنچانے میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
قبل ازیں ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر جاوید اقبال نے کہا کہ کسی بھی قوم کی ترقی میں خلائی سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خلائی سائنس کی تعلیم اور تحقیق کے فروغ میں انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔
ڈاکٹر جاوید اقبال نے اس موقع پر عالمی خلائی ہفتہ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہر سال 4 سے 10 اکتوبر تک عالمی سطح پر یہ ہفتہ منایا جاتا ہے، جس کا بنیادی مقصد عوام، بالخصوص نوجوان نسل کو خلائی سائنس کی اہمیت سے روشناس کرانا ہے۔
کانفرنس میں چین،امریکہ،ساؤتھ افریکہ،چلی اور تاجکستان سے ماہرین نے آن لائن پریزنٹیشن دی اور اپنے تحقیقی مقالہ جات پیش کئے۔علاوہ ازیں پاکستان بھر کی مختلف جامعات سے آئے ہوئے مقرین نے بھی مختلف موضوعات پر پریزینٹیشن دی اور اپنے تحقیقی مقالہ جات پیش کئے۔


