کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کےچیف آرگنائزرطارق چاندی والا نےکہاہے کہ کراچی میں فوری انسدادِ بھتہ خوری مہم شروع کی جائے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کراچی میں بھتہ خوری کا نوٹس لیں۔ تجارتی سرگرمیاں بھتے کی وجہ سے ماند پڑ رہی ہیں۔ کراچی کمائے گا نہیں تو باقی پاکستان کھائے گا کیا؟ کراچی پر ہونے والے ظلم وستم کو نظر انداز کرنا افسوسناک امر ہے۔ پیپلز پارٹی کو کراچی کی ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ بھتہ خوری پر انتظامیہ کی خاموشی معنی خیز ہے۔ تاجر برادری مسلسل اس امر کی جانب نشان دہی کر رہی ہے لیکن متعلقہ اداروں کے کانوں میں جوں بھی نہیں رینگتی ہے۔ پیٹ اور پلیٹ کی فکر کرنے والے کراچی کو کھا گئے۔ پاسبا ن پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں کراچی میں تاجروں کو ملنے والی بھتے کی پرچیوں اور دھمکیوں پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے مزید کہا کہ سندھ حکومت پولیو کی طرح شہریوں کو ڈکیتوں اور بھتہ خوروں سے بچانے کے لئے بھی اقدامات کرے۔شہر میں بھتہ مافیاایک بار پھر سرگرم عمل ہے، تاجربھتے کی پرچیوں سے سخت نالاں ہیں۔ جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں سے ثابت ہوگیا ہے کہ سندھ پولیس امن و امان کی صورتحال اور شہریوں کی جان و مال کی حفاظت میں بری طرح ناکام ہو گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کی کراچی سے دلچسپی صرف لوٹ کھسوٹ کی حد تک ہے۔ حکومت جس اہتمام کے ساتھ شہریوں سے ہر چیز پر ٹیکس وصول کرتی ہے اسی اہتمام کے ساتھ ان کے جان ومال کی حفاظت کو بھی یقینی بنائے۔ شہر کو سیاسی اکھاڑا بنانے کے بجائے شہر کے مسائل پر بات کی جائے۔ پیپلز پارٹی بچکانہ سیاست سے اجتناب کرتے ہوئے بیانات کے بجائے اپنی کارکردگی بہتر کرے۔ لاقانونیت، بھتہ خوری، تھانوں میں ناانصافیوں، شہر سے مافیاؤں اور خوف و ہراس کی فضاء کے خاتمے کے لئے عملی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جائے۔ کراچی مافیاؤں کے کنٹرول میں ہے۔ مسائل کے خاتمے کے زبانی کلامی دعوؤں سے عوام کے کان پک چکے ہیں۔ کراچی ملک کا معاشی حب ہے، امن و امان کی فضاء کا قیام یہاں کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ شہر کو عوام سے گہری ہمدردی رکھنے والی لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ شہر میں امن و امان کی صورتحال بگڑ رہی ہے۔ سندھ حکومت وڈیروں کی حکومت بن چکی ہے جنہیں وی آئی پی پروٹوکول سے فرصت ہی نہیں ہے۔ شہر پر جرائم پیشہ افراد کا راج ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور صوبائی حکومت کہاں سو رہی ہے؟پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آئیں اور عام آدمی کو جان و مال کا تحفظ فراہم کیا جائے-
94


