کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن نے دودھ کی قیمتوں میں فوری اضافہ نہ کیے جانے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو 2026 میں دودھ 400 روپے فی لیٹر سے کم دستیاب نہیں ہوگا۔
فوری مطالبات:
ایسوسی ایشن کے ترجمان غلام شبیر ڈار نے کہا کہ “دودھ کی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ پانچ چھ سو روپے فی من ملنے والا بھوسہ اب بارہ سو روپے فی من تک پہنچ گیا ہے اور جانوروں کے اخراجات پورے نہیں ہو رہے۔”
11 اکتوبر کی ڈیڈ لائن:
دودھ کی قیمت 250 روپے فی کلو مقرر کرنے کا مطالبہ
مطالبہ نہ مانے جانے پر احتجاج اور عدالت میں جانے کا اعلان
قیمتیں 300 روپے فی لیٹر کرنے کی دھمکی
حکومتی اجلاس ناکام:
کمشنر ہاؤس کراچی میں دودھ کی قیمتوں سے متعلق ہونے والا اجلاس بے نتیجہ ختم ہوا۔ اجلاس میں ڈیری فارمرز، ہول سیلرز اور ریٹیلرز نے حکومت سے فوری طور پر نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
سیلاب کے اثرات:
ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن کے مطابق حالیہ سیلاب نے ڈیری سیکٹر کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث:
دودھ کی پیداواری لاگت میں 30 فیصد اضافہ
روزانہ تقریباً 3 ارب روپے کا نقصان
فیڈ کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ
انتباہ:
ترجمان نے خبردار کیا کہ “اگر ڈیری فارمرز کو دیوار سے لگایا گیا تو 2026 میں 400 روپے فی لیٹر بھی دودھ نہیں مل سکے گا، اس لیے حکومت کو فی الفور ڈیری فارمرز کے مطالبات تسلیم کرنے چاہییں۔”
یہ تنازع اس وقت پیدا ہوا ہے جب ملک میں مہنگائی کے خلاف حکومتی اقدامات کے باوجود ڈیری سیکٹر مسلسل بحران کا شکار ہے۔


