70

بھتہ خوری عفریت، ہزاروں سے کروڑوں تک پہنچے وصولی کے ریٹ: تاجر رہنما کا شدید احتجاج

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) آل سٹی تاجر اتحاد کے سربراہ شرجیل گوپلانی نے کراچی میں بھتہ خوری کے بڑھتے ہوئے عفریت پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھتہ خوری کبھی ختم نہیں ہوئی اور اب اس کے ریٹ ہزاروں سے بڑھ کر کروڑوں میں پہنچ گئے ہیں۔

بھتہ خوری کی موجودہ صورت حال:
گوپلانی کے مطابق شہر کے کاروباری اداروں اور تاجروں سے بھتہ وصولی کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور تاجر آج بھی خوف و ہراس کے ماحول میں کاروبار کرنے پر مجبور ہیں۔

اداروں کی ناکامی پر تنقید:
تاجر رہنما کا کہنا تھا کہ “سندھ حکومت اور ادارے بھتہ خوروں کی بیخ کنی میں ناکام نظر آتے ہیں۔ پولیس اور سسٹم کی ناکامی بھتہ خوری کی اصل وجہ ہے۔”

انصاف کے نظام پر سوالات:
انہوں نے نشاندہی کی کہ “طاقتور ملزمان کو تحفظ اور مظلوم تاجروں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ متاثرہ تاجروں کو انصاف کے بجائے دباؤ کا سامنا ہے۔”

خاموشی کے اسباب:
گوپلانی نے بتایا کہ “بھتہ خوری کے بیشتر واقعات تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے کیونکہ تاجر جان و مال کے خدشے کے پیش نظر خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔”

فوری اقدامات کی اپیل:
تاجر رہنما نے حکومت اور اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھتہ خوری کی روک تھام کے لیے فوری عملی اقدامات کریں اور تاجر برادری کو تحفظ فراہم کریں۔

یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب کراچی میں کاروباری حلقوں میں بھتہ خوری کے خلاف شدید مایوسی اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں