84

ورلڈ بینک اور سندھ حکومت کا تاریخی معائینہ، 90 فیصد دیہاتیوں کو صاف پانی فراہم کرنے کا منصوبہ

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر مس بولورما امگابزار نے اپنے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کی۔ اجلاس میں صوبے کے دیہی علاقوں میں صاف پانی کی فراہمی اور صحت و صفائی کے انقلابی منصوبے ‘سندھ ٹرانسفارمیشنل ایکسلیریٹڈ رورل واٹر سپلائی’ (STARS-WASH) پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

صاف پانی کی ہنگامی صورتحال

ورلڈ بینک کی ڈائریکٹر نے اجلاس میں بتایا کہ “سندھ میں 90 فیصد سے زیادہ دیہی گھرانے پینے کے لیے آلودہ پانی استعمال کرنے مجبور ہیں، جو سنگین صحتی مسائل کا باعث بن رہا ہے۔” انہوں نے اعتراف کیا کہ WASH کی پچھلی اسکیمیں مکمل ہونے کے بعد جب مقامی حکومتوں کے حوالے کی گئیں تو وہ صحیح طریقے سے نہیں چلائی جا سکیں۔

نئے منصوبے کی انفرادیت

مس امگابزار نے بتایا کہ STARS-WASH پروگرام ایک بہترین اور جامع ڈیلیوری سسٹم کے مطابق کام کرے گا۔ اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ “کام اور مینٹیننس کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کی جائے گی، جس سے منصوبے کی پائیداری یقینی ہو سکے گی۔”

مرحلہ وار عملدرآمد

منصوبے کے تحت:

بڑے دیہاتوں (300 سے زائد گھرانوں) کو پائپڈ واٹر نیٹ ورک، اوور ہیڈ ٹینک، اور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ سسٹم پیشہ ورانہ یوٹیلیٹی کمپنیوں کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے۔

چھوٹے دیہاتوں (150 گھرانوں تک) کو ہینڈ پمپس یا نلوں کے ذریعے صاف پانی کی سہولت دی جائے گی۔

وزیراعلیٰ سندھ کا وژن

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ “سندھ پیپلز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے WASH پروگرام کے ساتھ انضمام سے صاف پانی اور صفائی کی مربوط ترسیل ممکن ہو پائے گی۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ “پانی کی فراہمی، صفائی، صحت اور غذائیت کے نظام کو باہم مربوط کرکے ہی اس کے ثمرات عوام تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔”

مستقبل کے اقدامات

وزیراعلیٰ سندھ اور ورلڈ بینک کے درمیان 2025 میں آنے والے مشن مذاکرات پر اتفاق کا اظہار بھی کیا گیا۔ اس منصوبے کے فیز ون میں 20 لاکھ افراد جبکہ فیز ٹو میں دیگر رہ جانے والے افراد مستفید ہوں گے، جس سے صوبے کے دیہی علاقوں میں زندگی کے معیار میں انقلابی تبدیلی آئے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں