54

پیپلز پارٹی ضلع غربی کے ورکرز کا شیرازہ بکھر گیا، صدر عابد ستی کے خلاف بغاوت

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)بلاول بھٹو نظریاتی کارکنان کو انصاف دلائین، ویسٹ کرپشن کا گڑھ ہے عابد ستی نے تنظیم کو بدنام کردیا ہے، جیالے ہیں خون کی آخری سانس تک بلاول بھٹو کے ساتھ ہیں، سینئر ورکرز ضلع غربی

پاکستان پیپلز پارٹی ضلع غربی کے ورکرز کا شیرازہ بکھر گیا۔ صدر عابد ستی کے خلاف کھلی بغاوت۔ پیپلز پارٹی کے ورکرز نے چائنا کٹنگ، محترمہ بے نظیر بھٹو کے نام کے اسٹیڈیم کے فروخت کرنے اور جرائم پیشہ افراد اور کرپٹ افسران کی مدد سے برسہا برس سے قربانی دینے والے کارکنوں نے جنہیں آواز اٹھانے پر گرفتار اور عامر بھٹو کو شہید کرنے والوں کی نشاندہی پر عابد ستی ممتاز تنولی اور جمیل ڈائری، نواز بروہی شہزادہ گلفام اور پارٹی کے نام پر کرائم کرنے والے افراد کے خلاف الم بغاوت بلند کردیا ہے۔

انکا کہناہے کہ کرپٹ منشیات فروش افراد کو عہدے بیچے جا رہے ہیں۔ سینئر ترین ورکر نے کہا کہ بلاول بھٹو کے لئے جان بھی حاضر ہے۔لیکن انہیں کراچی کی تنظیم اور ویسٹ کے عہدیداروں کو فارغ کرنا ہوگا۔ صدر عابد ستی نے شہزادہ گلفام کو پی ایس کے صدر کے لئے 60 لاکھ وصول کرلئے ہیں۔ انکے مطابق عابد ستی نے سٹی ایریا کے صدر کیلئے 50لاکھ روپے، جنرل سیکریٹری کے لئیے 40لاکھ روپے، انفارمیشن سیکریٹری 30لاکھ، سینئر نائب صدر بیس لاکھ روپے لئے جا رہے ہیں۔

رقوم دینے والوں کو عہدے کی یقین دہانی کرائی جا رہی ہے۔ یکمشت رقم دینے والے ہی فائنل ہوں گے کہ دیا گیا ہے۔ نصیب الرحمان، وسیم اختر، لاکھو مور خان (جو چیئرمین بھی ہیں) اکبر چانڈیو، قادر بروہی، خان، محمد عمران اور شہزادہ گلفام کے مزید رشتہ دار بھی شامل ہیں جو رقوم دے چکے ہیں۔ عابد ستی کا کہنا ہے کہ سعید غنی کو بھی حصہ جائے گا۔ ورکرز کا کہنا تھا کہ فیصل رضوی کے سا تھ ملکر اورنگی ٹاؤن کی پرائم لوکیشن پر عابد ستی اور فیصل رضوی ملکر اپنی رئیل اسٹیٹ کے زریعے پرائم لوکیشن کو فروخت کرا رہے ہیں۔

فیصل رضوی نے شاہد بشیر کے ساتھ ملکر عابد ستی کی میٹنگ کراکے یو سی ڈی، ورکشاپ ساڑھے گیارہ اور فلاحی پلاٹ۔ کھوئے والی مارکیٹ کا بھی سودا کرلیا ہے اور نمائشی تجاوزات مہم قبضے اور لیز دینے کے لئے کی جا رہی ہے جس میں ایس بی سی اے کا ریاض ملا بھی شامل ہے۔ فیصل ڑجوی غریب ترین گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور اسکا باپ لیاقت آباد سپر مارکیٹ پر چپلیں بیچتا تھا۔

ساٹھ گز کے عثمانیہ مہاجر کالونی کے سرکاری کوارٹر میں رہتا تھا۔ فیصل رضوی چور اور ڈکیت تھا اس نے اپنی بہن کا جہیز تک بیچ دیا۔ اسلحہ خریدا اور مراد پریڈی و امامیہ میں شامل ہوگیا۔ اغوا اور بھتہ کی کمائی پر جب غیرت مند باپ نے اس سے باز پرس کی تو دھکے دے کر گھر سے نکال دیا۔ اسکے والد ایک اسپتال میں چوکیدار تھے۔ آج فیصل رضوی کے پاس ڈیفنس میں کلفٹن میں اربوں کی جائیداد ہے جو امریکہ میں بھی ہے۔

اس وقت گھروں کی مالیت ایک ارب ہے۔ دس کروڑ کی گاڑیاں کراچی میں موجود ہیں۔ شاہین کنسٹرکشن کمپنی کے مالک ہیں۔ امریکہ میں دو ولقاز ہیں۔ فیملی وہیں ہے ڈبل شہریت ہے۔ منی لانڈرنگ بھی کرتے رہے ہیں۔ آمدنی سے زائد اثاثہ جات کا کیس نیب کب بنائے گی۔ کیا کوئی بریگیڈیئر انکی سرپرستی کر رہے ہیں کیونکہ یہ دھڑلے سے انہیں پارٹنر بتاتے ہیں۔ میئر کراچی سب کچھ جان کر بھی پردہ داری کر رہے ہیں۔
جبکہ عابد ستی اور کچھ وزرا، نجمی عالم اور دیگر کے دبا میں بھی ہیں جبکہ کرم اللہ وقاصی کو ایک کروڑ دے کر دونوں پوسٹنگ لینے کے دعویدار کھلے عام فیصل رضوی ہیں۔ رضا زیدی اور معظم قریشی بھی انہی کے کارندے ہیں۔ ہم نے پارٹی کے لئے قربانیاں اور اپنا لہو اسکے لئے نہیں۔ دیا بلاول بھٹو کراچی میں بیٹھ کر ہماری شکایات اور ثبوت سنیں ہمیں گرفتار کرانے کی بات سنیں۔

اس وقت سٹی ایریا کے عہدوں کے لئے سٹہ مافیا۔ لینڈ مادفیا، قبضہ گروپوں کو اہم عہدے لاکر ویسٹ کو برائے فروخت بنا رہے ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کے پلاٹس منگھو پیر والوں نے قبضہ کرکے بیچنا شروع کردیئے ہیں۔ نظریاتی کارکنوں کو عہدوں کی لسٹ سے نکال دیا گیا ہے اس وقت سارے گندے انڈے ایک ہو چکے ہیں ہمیں چیئرمین بلاول بھٹو سے انصاف چاہئے۔ کارکنان نے فیصلہ کیاہے کہ چاہے عابد ستی گرفتار کرائے وہ غنڈہ راج نہیں چلنے دیں گے۔ ایک سینئر رہنما نے بلاول ہاس میں بھی بات کی ہے جبکہ سینیٹر ندیم بھٹو کو بھی اپروچ کیا گیا ہے تحریری شکایات اور وی لاگ بھی قیادت کو بھیج دیئے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں