کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ میں زمین کی الاٹمنٹ کا حساب کتاب دوسرے صوبوں سے مختلف ہے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بزنس کیلئے قوانین بنائے۔
کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعیدغنی نے کہا کہ غیرقانونی تعمیرات نہیں ہونی چاہئیں، اجازت کے باوجود بننے والی غیرقانونی عمارت میں خریدار ذمہ دار نہیں، عام شہری بلڈر پر بھروسہ کرتا ہے۔
صوبائی وزیر نے سوال اٹھایا کہ نسلہ یا پویلین اینڈ کی تعمیر غلط ہوئی تو توڑنے کا کیا جواز تھا؟ غیرقانونی تعمیرات میں ملوث لوگوں کیخلاف کارروائی ہونی چاہیےحکومت کے فیصلے قانون کیخلاف ہیں تو سزا دینا عدالتوں کا بنیادی حق ہے، غلط فیصلے غیرقانونی تعمیرات کو پروان چڑھانے کے مترادف ہیں۔
سعیدغنی کا کہنا تھا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول کا نیا قانون بنانے جا رہے ہیں کرپشن کی روک تھام کیلئے نیاقانون ضروری ہے، غیرقانونی عمارتیں بنانا جرم ہے اور جائز کام کرنے والوں کیلئے نقصانات بڑھ رہےہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی کے تحت سیلاب زدگان کی مدد پر لوگ ناراض ہیں، دنیا بھر کے ادارے بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کو پسند کرتے ہیں صاف شفاف طریقہ کار سے امداد کرنی ہے تو ہمارا پروگرام بہترین ہے۔


