کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) مہاجر اتحاد نیشنل موومنٹ کی سینئر وائس چیئرمین روبینہ یاسمین نے میئر کراچی کو برطرفی کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو میئر اپنے پارٹی چیئرمین کو شرمندہ کردے اسے احتساب کے سخت کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے۔کراچی کرچی کرچی ہے۔ لیکن میئر کی ٹیم کرپشن کی بے تاج بادشاہ ہے۔ انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے تین ارکین اسمبلی کی جانب سے گلشن ضیاء میں چھاپہ مارنے اور فیصل رضوی اور اسکی کرمنل ٹیم کا دفتر چھوڑ کر بھاگنے اور دفتر بند کرانے پر انکا شکریہ ادا کیا۔ جہاں نو ہزار ایکڑ زمین پر چائنا کٹنگ کرکے متعدد مہاجر خاندانوں کو جعلی لیز قرار دے کر بے گھر کردیا گیا انہیں جعلی لیٹر دے کر دس دس لاکھ روپے فیصل رضوی، عاصم حسین، انیس، عارف اور ایم کیو ایم حقیقی سے نکالے گئے افراد نے دوبارہ آباد ہونے کی اجازت دی۔ تمام سہولت کاری افضل زیدی نے کی۔ جنہوں نے دفتر کی جگہ سٹی وارڈنز کی متعدد گاڑیاں اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے علاوہ ایک فرقہ وارانہ تنظیم کے عسکری ونگ کو بھی تعینات کیا۔ روبینہ یاسمین نے کہا ہے کراچی کی ترقی جو روکے گا وہ ملک دشمن ہے کراچی معاشی حب ہے کراچی چلتا ہے تو ملک پلتا ہے۔ بلاول بھٹو کا میئر کی کارکردگی پر عدم اعتماد، وزیر بلدیات کے گڑبڑ گٹالوں کے نوٹس لینے اور کراچی کی ترقی کے عزم کو اسوقت اچھا تصور کریں گے جب کے ایم سی میں افسران اور منتخب نمائندوں کا احتساب ہوگا۔ پنشنرز اور ریٹائرڈ افسران کے واجبات ادا ہوں گے۔ ملازمین کو اضافی تنخواہیں اور بروقت تنخواہیں دی جائیں گی۔ ریکوریز نہ ہونے پر افضل زیدی کو چارج شیٹ کیا جائے گا۔ نیب زدہ اور جعلی افسران فارغ کئے جائیں گے۔ فیصل رضوی، سیف عباس سمیت تمام کرمنلز فارغ ہوں گے۔ مہاجروں کی آباد کاری کی جائے گی۔ پٹرول پمپ اور پلاٹوں کی رشوت جعلی دستخط کرکے پرانے افسران پر ذمہ داری ڈالنے کی جعلساز لیب اٹینڈنٹ افسر اور کلفٹن کے عشرت کدوں میں اینٹی کرپشن، بلدیہ کراچی کے افسران اور اعلی قیادت کی سرگرمیوں کا فیصل رضوی کے بنگلے پر حرکات کا نوٹس لیا جائے گا۔ دس، دس سال کی تنخواہیں ادا کرکے بھگوڑوں کی سرپرستی قانون کی بالا دستی کے بجائے توہین عدالت، سندھ ہائی کورٹ کا تازہ حکم کہ او پی ایسافسران ۃتانے کے حکم کے بعد بھی فیصل رضوی اور افضل زیدی کرپشن کچن کیبنٹ کے خلاف میئر کا کوئی نوٹس نہ لینا افسوس ناک ہے۔ رضا عباس زیدی، معظم قریشی میئر کے برابر میں ہوتے ہیں جو وصولی اور تقسیم کارہیں۔ اگر سسٹم نہ ہوتا تو کراچی کی ترقی ہوتی اب بلاول بھٹو کے ڈنڈے کی ضرورت ہے تب ہی کراچی کی کچھ ترقی ممکن ہے۔
41


