51

اب لازمی ہوں گے جی پی ایس، کیمرے اور انڈر رن گارڈز، پرانی گاڑیوں پر پابندی

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ حکومت نے عوامی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سندھ موٹر وہیکل رولز 1969 میں تاریخی ترامیم کرتے ہوئے بھاری کمرشل گاڑیوں کے لیے نئی شرائط متعارف کرا دی ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق یہ ترامیم فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی۔

اہم شرائط:

تمام بھاری گاڑیوں کے لیے جی پی ایس ٹریکنگ ڈیوائس، ہائی ڈیفینیشن کیمرے (سامنے، پیچھے، 360 ڈگری)، ڈرائیور مانیٹرنگ کیمرا لازمی

انڈر رن پروٹیکشن گارڈز کی تنصیب ضروری

گاڑیوں کی عمر کی حد مقرر: انٹر پروونشل روٹس پر 20 سال، انٹر سٹی روٹس پر 25 سال، شہروں کے اندر 35 سال

فٹنس سرٹیفکیٹ صرف محکمہ ٹرانسپورٹ کے مراکز سے جاری ہوں گے

جرمانے اور پابندیاں:

خلاف ورزی پر پہلی بار 50,000 روپے، دوسری بار 2 لاکھ، تیسری بار 3 لاکھ روپے جرمانہ

گاڑی کو 14 دن کے لیے ضبط کرنے کا اختیار

مسلسل خلاف ورزی پر رجسٹریشن منسوخ

عملدرآمد کا طریقہ کار:
ٹریفک پولیس، ایکسائز اور ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ کسی رعایت کے بغیر قوانین کا نفاذ کریں۔ تمام جرمانے براہ راست سندھ حکومت کے اکاؤنٹ میں جمع ہوں گے۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کے ترجمان کے مطابق یہ اقدام ٹریفک حادثات میں کمی اور عوامی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جس سے نہ صرف شہریوں کو تحفظ ملے گا بلکہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں