کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ کابینہ نے سندھ ڈیلیگیشن آف فنانشل پاورز اینڈ فنانشل کنٹرول رولز 2019 میں ترمیم کی منظوری دے دی-اس ترمیم کے مطابق اسکول سربراہان اور مختیارکاروں کو مالی اختیارات کے خصوصی اختیارات حاصل ہیں- اس اصلاحی اقدام کو مالی سال 26-2025 میں متعارف کیاگیا-
اسکول اسپیسک بجٹ کے مطابق اسکولوں کو براہ راست 34 اسکولوں کو آپریشنل فنڈز کی براہ راست فراہمی کے لیے 34,106 مراکز قائم کیے گئے ہیں- اس سے ضروری اخراجات کی دستیابی کے لیے تعلقہ تعلیمی دفاتر پر انحصار کم ہوگا-ا سکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ڈپارٹمنٹ (SELD) ان اختیارات کو مؤثر بنانے کے لیےا سکول کے سربراہان کو مالیاتی انتظام کی تربیت دے رہا ہے-
مٹیاری اور سکھر میں لینڈ ٹرانزیکشن ڈیجیٹلائزیشن پراجیکٹ کو پائلٹ کیا جارہا ہے-مختیارکار کو اب بجٹ کے تحت اخراجات کی منظوری اور خرچ کرنے کا اختیار حاصل ہوں گے- مختیار کار کو ایک وقت میں 2 لاکھ روپے خرچ کرنے کا اختیار ہوگا-یہ اقدام25-2024کی اصلاحات کا آئینہ دار ہے-
جس نے تھانوں کے ایس ایچ اوز کو مالی خود مختاری فراہم کی اور توقع ہے کہ نچلی سطح پر گورننس، احتساب اور خدمات کی فراہمی کو تقویت ملے گی-


