کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) لانڈھی کے علاقے میں ایک انتہائی افسوسناک اور المناک واقعہ پیش آیا ہے، جہاں ایک معصوم بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اسے بوری میں بند کر کے کچرے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا۔ اس واقعے نے پورے علاقے میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی ہے۔
مقامی رہائشیوں کے مطابق، بچے کی لاش ملیں کے بعد سے تھانہ لانڈھی کے باہر احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ عوام کا الزام ہے کہ پولیس نے اس سنگین نوعیت کے واقعے میں بھی روایتی طریقے سے مقدمہ درج کر کے کام چلانے کی کوشش کی ہے، جبکہ ملزمان اب تک گرفتاری سے آزاد ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ “تھانہ لانڈھی کی پولیس صرف گٹکا اور چرس کے چھوٹے موٹے مقدمات میں مصروف ہے، ایسے سنگین واقعات میں فوری کارروائی نہیں ہو رہی۔” ان کا مطالبہ ہے کہ اس کیس کی سی بی آئی یا دیگر اعلیٰ سطحی ادارے فوری طور پر تفتیش کریں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کی گہرائی میں جا رہے ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام تر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، عوام کا اصرار ہے کہ انصاف کے حصول کے لیے تیز تر اور شفاف کارروائی کی جائے۔ یہ واقعہ شہر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام کرنے کے طریقوں پر سوالات کھڑے کر رہا ہے۔


