کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)انسپکٹر جنرل پولیس سندھ غلام نبی میمن نے کراچی کے چار ڈی ایس پیز کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے باعث انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
ان میں ڈی ایس پی سھراب گوٹھ اورنگزیب خٹک، ڈی ایس پی کالاکوٹ آصف منور، ڈی ایس پی کھارادر شبیر احمد، اور ڈی ایس پی عیدگاہ ظفر اقبال شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق، آئی جی سندھ نے ان افسران پر غیر قانونی سرگرمیوں اور ذمہ داریوں میں غفلت برتنے کے سنگین الزامات کے پیش نظر یہ اقدام کیا ہے۔ انکوائری کا مقصد ان پر عائد ہونے والے الزامات کی تفتیش کرنا ہے۔
پولیس محکمے کے اندرونی ذرائع نے بتایا کہ یہ اقدام شہر میں قانون نافذ کرنے کے معیارات کو بہتر بنانے اور احتساب کے عمل کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
آئی جی سندھ کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ “کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں کی شکایت کی صورت میں فوری اور غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے گی۔ ہمارا مقصد شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا ہے۔”
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس طرح کے اقدامات پولیس فورس میں اصلاحات کے عمل کو تقویت دے سکتے ہیں۔
انکوائری کمیٹی نے متعلقہ ڈی ایس پیز سے تفصیلی وضاحت طلب کی ہے اور جلد از جلد اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔


