اجمیر، راجستھان(ایچ آراین ڈبلیو)بھارتی ریاست راجستھان کے شہر اجمیر میں ایک المناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک خاتون نے اپنے محبوب کے طعنوں سے تنگ آکر اپنی ہی تین سالہ معصوم بیٹی کو جھیل میں پھینک کر قتل کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق، انجلی نامی خاتون نے آدھی رات کو اپنی بیٹی کو جھیل کے کنارے لے جا کر پانی میں پھینک دیا، جس کے بعد اس نے بیٹی کے لاپتہ ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ پولیس کی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ یہ سنگین جرم محبوب کے مسلسل طعنوں کے ردعمل میں کیا گیا۔
پولیس ترجمان کے مطابق، “انجلی شوہر سے علیحدگی کے بعد اپنے آشنا آلکیش کے ساتھ رہ رہی تھی اور دونوں ایک ہوٹل میں ریسیپشنسٹ کے طور پر کام کرتے تھے۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آلکیش بار بار انجلی پر بچے کے بارے میں منفی تبصرے کرتا تھا۔”
اس واقعے نے مقامی برادری میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔ پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کر لیا ہے اور مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے بیانات میں متضاد باتوں نے ہی اسے مشتبہ بنایا تھا۔
یہ واقعہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے نفسیاتی دباؤ اور خواتین پر گھریلو تشدد کے سنگین مسائل کو اجاگر کرتا ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات روکنے کے لیے معاشرتی سطح پر شعور اجاگر کرنے اور نفسیاتی مشاورت کی سہولیات فراہم کرنے کی فوری ضرورت ہے۔
عدالت نے ملزمہ کو پولیس ریمانڈ پر دے دیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ اس المناک واقعے نے سماجی حلقوں میں بچوں کے تحفظ اور خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے خلاف آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔


