کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے پنجاب حکومت سے صوبے میں زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے، سیلاب متاثرین کو بجلی کے بلوں سے مکمل چھوٹ دینے، اور بین الاقوامی برادری کے تعاون سے تعمیر نو کے منصوبے شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ اور پی پی پی سندھ کے سیکریٹری اطلاعات شرجیل انعام میمن نے ایک بیان میں کہا کہ پنجاب میں سیلاب کی وجہ سے کھیت تباہ ہوچکے ہیں، کسان مشکلات کا شکار ہیں، اور عام عوام کی زندگیاں اجیرن ہوچکی ہیں .
سیلاب سے پنجاب کی زراعت کو شدید نقصان
زرعی رقبے کی تباہی: حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں پنجاب میں 21 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی رقبہ زیرِ آب آچکا ہے، جس نے چاول، کپاس، گنے اور مکئی جیسی اہم فصلوں کو مکمل طور پر متاثر کیا ہے .
سبزیوں کی قلت اور مہنگائی: سبزیوں کی بربادی کے باعث مارکیٹ میں شدید قلت اور قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ہزاروں مویشی بھی سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں، جو کسانوں کی جمع پونجی سمجھے جاتے تھے .
معاشی نقصانات: نقصانات نے کسانوں کو کمر توڑ معاشی بحران میں دھکیل دیا ہے اور قومی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ ملک کو فوڈ سیکیورٹی کے سنگین خطرات لاحق ہیں .
پیپلز پارٹی کے مطالبات
زرعی ایمرجنسی کا اعلان: وفاقی حکومت کی طرح پنجاب حکومت کی جانب سے بھی صوبے میں زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے، تاکہ کسانوں کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے اور قومی فوڈ سیکیورٹی کو خطرات سے بچایا جا سکے .
بجلی کے بلوں سے مکمل چھوٹ: سیلاب متاثرین کے معاشی بوجھ کو کم کرنے کے لیے نہ صرف کسانوں بلکہ تمام سیلاب متاثرین کو بجلی کے بلوں سے مکمل چھوٹ دی جائے .
بین الاقوامی تعاون سے تعمیر نو: حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کو چاہیے کہ وہ فوری امداد کے لیے عالمی برادری اور بین الاقوامی اداروں کو اعتماد میں لے اور پنجاب کے عوام کے لیے بڑے پیمانے پر بحالی کے منصوبے شروع کیے جائیں .
سندھ ماڈل: بحالی اور تعمیر نو کی مثال
سندھ کے تجربات: سندھ میں تباہ کن سیلاب کے بعد اکیس لاکھ گھروں کی تعمیر اور متبادل توانائی کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ سندھ میں حکومت نے عالمی اداروں کے اشتراک سے نہ صرف گھر تعمیر کرائے ہیں بلکہ مفت سولر پلیٹس بھی تقسیم کی جا رہی ہیں .
پنجاب کے لیے تجویز: سندھ کے طرز پر پنجاب میں بھی بحالی اور تعمیر نو کے لیے منصوبہ بندی کی جائے، تاکہ متاثرین کو پائیدار ریلیف اور بہتر مستقبل میسر آسکے .
پنجاب کے ساتھ یکجہتی
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں سندھ کے عوام اور حکومت مکمل طور پر پنجاب کے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں .
وزیراعظم کی ریلیف اسکیم
وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف اسکیم کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت:
بجلی کے بلوں میں چھوٹ: سیلاب متاثرہ علاقوں کے گھریلو صارفین کے اگست کے بجلی کے بل معاف کیے گئے ہیں۔ جو صارفین پہلے ہی ادا کر چکے ہیں، انہیں اگلے بلنگ سائیکل میں رقم واپس مل جائے گی .
دیگر شعبوں کے لیے ریلیف: زرعی، تجارتی اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے بلوں کی ادائیگی مؤخر کی گئی ہے، تاکہ وہ سیلاب کے معاشی اثرات سے نمٹ سکیں .
بین الاقوامی امداد
امریکی امداد: امریکہ نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے مالی امداد کی منظوری دی ہے، جو ٹرمپ انتظامیہ کے تحت اپنی نوعیت کی پہلی امداد ہے .
بین الاقوامی اپیل: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیلاب متاثرین کے لیے فوری بین الاقوامی امداد کی اپیل کرے، جیسا کہ 2022 کے سیلاب کے دوران کیا گیا تھا .
زرعی بحران کے اثرات (اعداد و شمار)
متاثرہ شعبہ نقصانات
زرعی رقبہ 21 لاکھ ایکڑ سے زائد زیر آب
اہم فصلیں چاول، کپاس، گنا، مکئی مکمل تباہ
مویشی ہزاروں مویشی ہلاک
معاشی نقصان اربوں روپے
نتیجہ اور سفارشات
پیپلز پارٹی کے مطالبے پنجاب میں سیلاب سے پیدا ہونے والی سنگین صورت حال کے پیش نظر انتہائی اہم ہیں۔ زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے، بجلی کے بلوں سے چھوٹ دینے، اور بین الاقوامی تعاون سے تعمیر نو کے منصوبے شروع کرنے سے نہ صرف متاثرین کو ریلیف ملے گا، بلکہ قومی معیشت اور فوڈ سیکیورٹی کو بھی تحفظ ملے گا۔ وزیراعظم کی ریلیف اسکیم اور بین الاقوامی امداد کے اقدامات قابل تعریف ہیں، لیکن پنجاب حکومت کو بھی فوری عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔


