117

سندھ میں ملیریا کی وبا: بارشوں کے بعد کیسز میں خطرناک اضافہ، ڈیڑھ لاکھ سے زائد متاثرین

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ بھر میں حالیہ بارشوں کے بعد ملیریا کے کیسز میں خطرناک اضافه دیکھا جا رہا ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے ترجمان کے مطابق جنوری سے 17 ستمبر تک صوبے بھر میں ملیریا کے 1 لاکھ 54 ہزار 123 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے 71 ہزار 14 کیسز صرف حیدرآباد ڈویژن سے ہیں۔ کراچی میں بھی ملیریا کے 2 ہزار 97 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ دماغی ملیریا کے تین کیسز بھی سامنے آئے ہیں، جن کا تعلق حیدرآباد سے ہے .

صوبائی صورتحال: ڈویژن وار اعداد و شمار
حیدرآباد ڈویژن: سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ، جہاں 71,014 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

لاڑکانہ ڈویژن: 40,173 کیسز کے ساتھ دوسرے نمبر پر۔

شہید بینظیرآباد ڈویژن: 17,112 کیسز رپورٹ ہوئے۔

سکھر ڈویژن: 11,862 کیسز۔

میرپورخاص ڈویژن: 11,865 کیسز .

کراچی میں صورتحال: ضلع وار کیسز
کراچی میں ملیریا کے 2,097 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن کی ضلع وار تقسیم درج ذیل ہے:

ضلع ملیر: 620 کیسز (سب سے زیادہ)

ضلع کورنگی: 359 کیسز

ضلع جنوبی: 374 کیسز

ضلع غربی: 349 کیسز

ضلع شرقی: 179 کیسز

ضلع وسطی: 121 کیسز

ضلع کیماڑی: 95 کیسز .

خطرناک صورتحال: دماغی ملیریا کے کیسز
دماغی ملیریا: رواں سال 3 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن کا تعلق حیدرآباد سے ہے۔ یہ ملیریا کی ایک شدید قسم ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے .

وجوہات اور محکمہ صحت کی کارروائی
بارشوں کے بعد پانی جمع ہونا: بارشوں کے بعد مختلف علاقوں میں پانی جمع ہونے سے مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہوا ہے، جو ملیریا پھیلانے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔

احتیاطی تدابیر: محکمہ صحت نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ مچھر دانیوں کا استعمال کریں، صفائی کا خیال رکھیں، اور مچھر مار ادویات کا سپرے کریں۔

علاج کی سہولیات: سرکاری اسپتالوں میں ملیریا کے مریضوں کے لیے مفت ادویات اور علاج کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں .

عوام کے لیے ہدایات
مچھروں سے بچاؤ: ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں، جو پورے جسم کو ڈھانپے ہوں۔

صفائی: اپنے گھر کے اردگرد پانی جمع نہ ہونے دیں، اور کچرا کو بروقت ٹھکانے لگائیں۔

بروقت علاج: اگر بخار، سر درد، یا جسم میں درد جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں .

نتیجہ
سندھ بھر میں ملیریا کے کیسز میں اضافہ ایک تشویشناک صورتحال ہے، جس پر قابو پانے کے لیے محکمہ صحت اور عوام دونوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اور بروقت علاج کراکے اس وبا پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں