کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے بیانات پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہیں “جھوٹے اور کھوکھلے” قرار دیا ہے۔ سعدیہ جاوید کے مطابق، عظمیٰ بخاری کے بیانات ان کے مینڈیٹ کی طرح غیر مستند ہیں، اور وہ “فارم 47 پر آنے والوں” کی نمائندگی کرتی ہیں، جنہیں نہ تمیز آتی ہے اور نہ ہی کارکردگی دکھانے کا ہنر۔
سعدیہ جاوید کے اہم بیانات
عظمیٰ بخاری کی کارکردگی پر تنقید: سعدیہ جاوید نے کہا کہ عظمیٰ بخاری کی “سستی بیان بازی” نے مسلم لیگ نون کو ہمیشہ شرمندہ کیا ہے۔ ان کا رویہ “سندھ فوبیا” کی عکاسی کرتا ہے، اور وہ اپنی تصویریں لگوانے کی سیاست کرنا چاہتی ہیں۔
مسلم لیگ نون کی پالیسیوں پر اعتراض: سعدیہ جاوید کے مطابق، مسلم لیگ نون نے اقتدار ملتے ہی اپنا “اصلی چہرہ” دکھا دیا ہے، جس میں “نفرت اور تعصب” کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نون لیگ لاہور کو پورا پنجاب سمجھتی ہے، جبکہ دیگر خطے ان کے لیے غیر اہم ہیں۔
پیپلز پارٹی کی وفاداری: سعدیہ جاوید نے زور دے کر کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو وفاق کی اصل علامت ہے، اور اس نے ہمیشہ پنجاب سمیت ہر صوبے کے عوام کو اپنا سمجھا ہے۔ انہوں نے حالیہ سیلاب میں سندھ حکومت کے اقدامات کو بھی سراہا۔
سیاسی تنازع کے پس منظر میں
دونوں رہنماؤں کے درمیان تناو: عظمیٰ بخاری اور سعدیہ جاوید کے درمیان تناؤ پہلے بھی رہا ہے۔ عظمیٰ بخاری نے سندھ حکومت کے ترجمانوں کو “حواس باختہ” قرار دیا تھا، جبکہ سعدیہ جاوید نے انہیں “بولنے میں احتیاط” برتنے کا مشورہ دیا تھا۔
بلدیاتی نظام پر اختلاف: دونوں رہنما بلدیاتی نظام کے حوالے سے بھی متضاد موقف رکھتی ہیں۔ عظمیٰ بخاری کے مطابق، سندھ میں صرف ایک مئیر کا “ون مین شو” ہے، جبکہ سعدیہ جاوید نے پنجاب میں “ووٹ چوری اور سلیکشن” کی سیاست پر تنقید کی ہے۔
نتیجہ
سندھ اور پنجاب کی سیاسی قیادت کے درمیان یہ تنازع صوبائی مسائل اور وفاقی سیاست کے درمیان کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔ سعدیہ جاوید کے بیانات نے اس کشمکش کو ایک نئی جہت دی ہے، جس میں دونوں اطراف ایک دوسرے پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔ عوام کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے دونوں صوبوں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے، تاکہ ملکی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔


