55

کراچی میں آشوبِ چشم کی وبا روزانہ 70 سے زائد نئے مریض رپورٹ ہو رہے ہیں

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)حالیہ بارشوں کے بعد شہر قائد میں آشوبِ چشم (ریڈ آئی/پنگ آئی انفیکشن) کے کیسز میں خطرناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ نجی و سرکاری اسپتالوں میں روزانہ 70 سے زائد مریض آنکھوں کی سرخی، سوجن، درد اور روشنی سے چبھن جیسی علامات کے ساتھ رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ماہرین امراض چشم نے اسے ایڈینو وائرس کی وبا قرار دیتے ہوئے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے .

وبا کی تفصیلات اور پھیلاؤ کی وجوہات
تیز رفتار پھیلاؤ: جناح اسپتال میں روزانہ 15-20، جبکہ سول اسپتال میں 10-15 نئے مریض رپورٹ ہو رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں قائد آباد، کیماڑی، بلدیہ ٹاؤن اور لیاقت آباد شامل ہیں .

وجوہات: ماہرین کے مطابق ہوا میں زیادہ نمی، ناقص صفائی ستھرائی اور ایڈینو وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ نے اس وبا کو جنم دیا ہے۔ یہ انفیکشن زیادہ تر ہاتھوں کے ذریعے ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتا ہے .

علامات: آنکھوں کا سرخ ہونا، سوجن، پانی آنا، روشنی سے چبھن اور درد شامل ہیں۔ شدید کیسز میں قرنیہ متاثر ہونے سے بینائی دھندلا سکتی ہے .

طبی ماہرین کی ہدایات اور انتباہات
ادویات کے استعمال میں احتیاط: ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بیٹناسول جیسی اسٹیرائیڈ آئی ڈراپس کا خود سے استعمال طویل مدتی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ عرقِ گلاب کے بجائے مصنوعی آنسوؤں والے ڈراپس کو محفوظ متبادل قرار دیا گیا ہے .

علاج کا دورانیہ: ہلکے کیسز ایک ہفتے میں ٹھیک ہو سکتے ہیں، جبکہ درمیانے اور شدید انفیکشن 15-20 دن یا اس سے زیادہ عرصہ تک جاری رہ سکتے ہیں۔ بعض مریضوں میں روشنی سے چبھن اور دھندلاپن دو ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے .

احتیاطی تدابیر:

متاثرہ آنکھوں کو کھجانے یا مسلنے سے گریز کریں۔

سن گلاسز کا استعمال کریں۔

تولیہ، تکیہ اور دیگر ذاتی استعمال کی اشیاء علیحدہ رکھیں۔

ہاتھوں کو بار بار دھوئیں اور دوسروں سے ہاتھ ملانے سے پرہیز کریں .

اسپتالوں کی صورت حال اور شہریوں کے مسائل
کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں بستروں اور طبی عملے کی کمی کے باعث مریضوں کو داخلے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔ شہر کی 3 کروڑ آبادی کے لیے صرف 6,500 بستر دستیاب ہیں، جس کے باعث زیادہ تر مریض اسپتالوں کے باہر ہی علاج کرانے پر مجبور ہیں . اندرون سندھ اور بلوچستان سے آنے والے مریض فٹ پاتھوں پر رہنے پر مجبور ہیں، کیونکہ ان کے پاس رہائش کے متبادل انتظامات کرنے کے وسائل نہیں ہیں .

نتیجہ اور سفارشات
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ وبا جان لیوا نہیں ہے، لیکن اس کے تیزی سے پھیلنے کا خطرہ موجود ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں اور بروقت طبی مشورہ لیں۔ سرکاری اداروں کو چاہیے کہ وہ عوامی آگاہی مہم چلائیں اور اسپتالوں میں مریضوں کے لیے سہولیات بڑھائیں-

اپنا تبصرہ بھیجیں