کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)سندھ حکومت نے موسمیاتی تبدیلیوں کے زرعی شعبے پر تباہ کن اثرات کے پیش نظر کسانوں کی جدید خطوط پر تربیت اور فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لیے ایک جامع ‘کلائمٹ اسمارٹ ایگریکلچر’ منصوبہ شروع کیا ہے۔ صوبائی وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر کے مطابق، یہ پانچ سالہ منصوبہ سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن (SWAT) پروگرام کے تحت 2028 تک جاری رہے گا، جس کے تحت 4,500 کسانوں کو جدید زرعی تکنیکوں کی تربیت دی جائے گی۔
منصوبے کے اہم پہلو:
1. موسمیاتی چیلنجز کا مقابلہ
وزیر زراعت سردار محمد بخش مہر نے واضح کیا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے، جس کے باعث فصلیں متاثر ہو رہی ہیں اور کسان نقصان اٹھا رہے ہیں۔ اسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے سندھ حکومت نے کسانوں کی تربیت کے ذریعے عملی اقدامات شروع کیے ہیں۔
2. تربیتی پروگرام کا اجراء
منصوبے کے تحت کسانوں کو جدید زرعی طریقے سکھائے جا رہے ہیں، جن میں فصل کی پیداوار میں اضافہ، پودے کی اونچائی، شاخوں کی تعداد، کیڑوں کے خاتمے اور کم پانی میں کاشت جیسے عملی طریقے شامل ہیں۔ رواں سال پہلے مرحلے میں 750 کسانوں کو جدید زرعی تکنیکوں کی تربیت دی جا رہی ہے۔
3. فیلڈ اسکولز اور ڈیمو پلاٹس
اس سلسلے میں سکھر، میرپور خاص اور بدین میں 30 ڈیمو پلاٹس اور فیلڈ اسکولز قائم کیے گئے ہیں۔ ان ڈیمو پلاٹس پر لیزر لینڈ لیولنگ، گندم کی قطاروں میں کاشت اور متوازن کھاد کے استعمال جیسے طریقوں کا عملی مظاہرہ کیا گیا۔ کل 180 فیلڈ اسکول قائم کیے جائیں گے۔
4. کامیاب تجربات
وزیر زراعت کے مطابق بدین کے کھورواہ مائنر میں زیرو ٹلج تکنیک کے تحت دھان کے بعد زمین میں بچی ہوئی نمی پر گندم اگائی گئی، جس سے اخراجات، پانی اور محنت میں نمایاں بچت کے ساتھ ماحولیات کو بھی فائدہ ہوگا۔
5. معاون اقدامات
تربیت مکمل ہونے کے بعد تمام کسانوں کو سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنی زمینوں پر یہ جدید طریقے اپنائیں اور دوسروں کے لیے مثال قائم کریں۔ اس اقدام سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ صوبے میں غذائی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔
منصوبے کے تاثرات اور مستقبل کے اقدامات:
سندھ حکومت کے اس اقدام کو زرعی حلقوں میں انتہائی مثبت ردعمل ملا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف کسانوں کی آمدنی بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کو کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
سندھ حکومت کی جانب سے یہ اقدام اس وژن کا حصہ ہے جس کا مقصد صوبے کے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اور کسانوں کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے متعارف کرانا ہے۔


