کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سندھ کے زیر اہتمام جامعہ کراچی میں “نادرا آن لائن سروسز اینڈ موبائل ایپ” کے عنوان سے ایک آگاہی سیشن منعقد کیا گیا، جس میں ڈائریکٹر جنرل نادرا سندھ عامر علی خان نے بتایا کہ شہر میں گلشن اقبال، گلبرگ اور سرجانی ٹاؤن کے علاقوں میں تین نئے میگا سینٹرز قائم کیے جائیں گے، جن کے مارچ 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ نادرا عوام کو جدید ترین ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، جس کے تحت شہری اب اپنے موبائل فون کے ذریعے نادرا کی بیشتر خدمات حاصل کر سکتے ہیں۔
نادرا کی ڈیجیٹل خدمات اور پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے فوائد
عامر علی خان نے اس موقع پر بتایا کہ نادرا کی “پاک آئی ڈی موبائل ایپ” کے ذریعے صارفین گھر بیٹھے شناختی کارڈ کی ترمیم، تجدید، دوبارہ پرنٹنگ، اور دیگر خدمات حاصل کر سکتے ہیں، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ محنت بھی کم لگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایپ پاکستانی شہریوں کے لیے آن لائن شناختی دستاویزات جاری کرنے کا ایک آخری حل فراہم کرتی ہے، جس میں بائیو میٹرک تصدیق، OTP کے ذریعے تصدیق کنندہ کی توثیق، اور آن لائن ادائیگیوں جیسی سہولیات شامل ہیں ۔ انہوں نے نوجوان طلبہ پر زور دیا کہ وہ نادرا کی نئی خدمات کے بارے میں آگاہی پھیلانے میں اہم کردار ادا کریں، کیونکہ نوجوان ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں۔
جامعہ کراچی کی شراکت اور ڈیجیٹلائزیشن کی اہمیت
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے اس موقع پر کہا کہ موجودہ دور ڈیجیٹلائزیشن کا ہے اور پاکستان میں ڈیجیٹل نظام کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نظام نہ صرف شفافیت کو یقینی بناتا ہے بلکہ کرپشن کی روک تھام کے لیے بھی ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے نادرا کو ایک مثالی ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے گزشتہ دو دہائیوں میں جدید ٹیکنالوجی کو اپنا کر خدمات کے معیار میں غیر معمولی بہتری پیدا کی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ادارے محض انفراسٹرکچر سے نہیں بلکہ ایک مضبوط سوچ، واضح ویژن اور پختہ کمٹمنٹ سے تشکیل پاتے ہیں، اور نادرا انہی اداروں میں شامل ہے۔
نئے میگا سینٹرز اور عوامی سہولیات
عامر علی خان نے بتایا کہ نادرا کے زیر اہتمام کراچی میں موجودہ میگا سینٹرز کے علاوہ تین نئے میگا سینٹرز قائم کیے جائیں گے، جو گلشن اقبال، گلبرگ اور سرجانی ٹاؤن کے علاقوں میں واقع ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان مراکز کا مقصد عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا ہے، اور ان تمام مراکز میں مفت تھیلیسیمیا اسکریننگ کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نادرا کی کوشش ہے کہ یہ منصوبہ مارچ 2026 تک مکمل کر لیا جائے، تاکہ شہریوں کو جلد از جلد بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔
نادرا کی عوامی آگاہی مہموں کی وسعت
یہ آگاہی سیشن نادرا کی عوامی آگاہی مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت پہلے بھی کراچی کے مختلف کالجوں اور عوامی مقامات پر ایسے سیشنز منعقد کیے جا چکے ہیں۔ گورنمنٹ ڈگری کالج عمرکوٹ، پولی ٹیکنیک انسٹی ٹیوٹ مٹھی، یونیورسٹی آف میرپورخاص، اور زرعی یونیورسٹی عمرکوٹ میں نوجوانوں کو پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے فوائد اور اس پر دستیاب سہولیات کے بارے میں آگاہ کیا گیا ۔ ان مہمات کا مقصد عوام میں ڈیجیٹل خدمات کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
طلبہ اور اساتذہ کی شرکت
آگاہی سیشن میں جامعہ کراچی کے مختلف شعبہ جات کے اساتذہ اور طلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے نادرا کے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ ایسی آگاہی مہمات نہ صرف ڈیجیٹل خواندگی بڑھانے میں مددگار ہیں بلکہ عوامی خدمات تک رسائی کو بھی آسان بناتی ہیں۔ جامعہ کراچی، جو پاکستان کی بڑی جامعات میں شمار ہوتی ہے اور سندھ کی سب سے بڑی درسگاہ ہے، اسے آگاہی پھیلانے کے لیے ایک موزوں پلیٹ فارم قرار دیا گیا۔
مستقبل کے اقدامات
عامر علی خان نے بتایا کہ نادرا مستقبل میں بھی ڈیجیٹل خدمات کو بہتر بنانے اور عوام تک رسائی آسان بنانے کے لیے کام کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے عوامی مسائل حل کرنا نادرا کی اولین ترجیح ہے، اور اس سلسلے میں نئی ایپس اور سروسز متعارف کرائی جائیں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نادرا کی خدمات نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی قابل رسائی ہیں، جو ڈیجیٹل نظام کی افادیت کو ظاہر کرتی ہیں۔


