کراچی (ایچ آر این ڈبلیو): سینئر سول جج جنوب/سیٹی کورٹ کراچی نے ایم اے جناح روڈ پر واقع پٹاخے گودام میں ہونے والے دھماکے کے مقدمے میں معاوضے کی سماعت شروع کر دی ہے۔ مرحوم میڈیکل لیب مالک کی بیوہ uzma شہزاد نے گودام مالکان اور سندھ حکومت کے خلاف 64.5 ملین روپے (6.45 کروڑ) کے معاوضے کا دعویٰ دائر کیا ہے۔
عدالت نے سندھ کے ہوم سیکرٹری اور گودام مالکان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جوابی بیان داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وکیل اسمان فاروق نے دلیل دی کہ 21 اگست کو ہونے والا دھماکہ غیر قانونی پٹاخے گودام میں فیکٹری اور گودام مالکان کی شدید غفلت کے باعث ہوا۔
اہم نکات:
مقدمہ Fatal Accidents Act کے تحت دائر کیا گیا
معاوضے کی رقم 6.45 کروڑ روپے مقرر کی گئی
مرحوم شہزاد علی میڈیکل مارکیٹ میں لیب چلاتے تھے
خطرناک فیکٹری اب تک منتقل نہیں ہوئی
وکیل اسمان فاروق نے زور دیا کہ “ذمہ دار فریقین کو 6.45 کروڑ روپے معاوضہ ادا کرنا ہوگا”۔ یہ واقعہ شہر میں غیر قانونی صنعتی یونٹس کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔
بین الاقوامی موازنہ:
دیگر ممالک میں ایسے واقعات میں معاوضے کی شرحیں مختلف ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت میں ایک پلانٹ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو 20 لاکھ روپے معاوضہ دیا گیا تھا، جبکہ چیک جمہوریہ نے ایک دھماکے کے واقعے میں روس سے 47 ملین ڈالر معاوضہ مانگا تھا۔
اس مقدمے کے نتائج شہر میں حفاظتی regulations کے نفاذ اور صنعتی حادثات میں ذمہ داران کی بازپرس کے حوالے سے اہم ثابت ہوں گے۔


