کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) کمشنر کراچی سید حسن نقوی کو کورنگی میں جعلی سیمنٹ بنانے کے غیر قانونی کارخانے کے خلاف چھاپے کی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر کورنگی مسعود بھٹو نے یہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس کارروائی میں 8 افراد کو گرفتار کیا گیا اور 300 بوریوں جعلی سیمنٹ ضبط کیا گیا۔
چھاپے کی تفصیلات
ایک خفیہ معلومات پر عمل کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر کورنگی محمد حسین کھوسو کی قیادت میں ایک عملے نے غیر قانونی فیکٹری پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران:
فیکٹری کو مہر کر دیا گیا
8 ملزمان کو گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کیا گیا
300 بوری جعلی سیمنٹ ضبط کیا گیا
ایف آئی آر درج کرائی گئی
قانونی کارروائی
ڈپٹی کمشنر کورنگی مسعود بھٹو نے بتایا کہ گرفتار افراد کے خلاف مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جعلی تعمیراتی مواد بنانا نہ صرف عوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ معیشت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
جعلی سیمنٹ کے خطرات
ماہرین کے مطابق جعلی سیمنٹ:
عمارتوں کی ساخت کو کمزور کرتا ہے
زلزلے کے دوران بڑے حادثات کا سبب بن سکتا ہے
عوام کی جان و مال کو خطرے میں ڈالتا ہے
قومی معیشت کو نقصان پہنچاتا ہے
حالیہ کارروائیوں کا جائزہ
تاریخ مقام ضبط شدہ مال گرفتاریاں
حالیہ چھاپہ کورنگی 300 بوریاں 8 افراد
گزشتہ ماہ لانڈھی 500 بوریاں 12 افراد
دو ماہ قبل کورنگی انڈسٹریل ایریا 200 بوریاں 6 افراد
انتظامیہ کا عزم
کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے کہا کہ جعلی مصنوعات بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسی غیر قانونی سرگرمیوں کی معلومات فوری طور پر انتظامیہ تک پہنچائیں۔
عوامی حفاظت کے اقدامات
شہریوں کے لیے تجاویز:
معیاری سیمنٹ ہی استعمال کریں
مصنوعات کی پیکنگ اور برانڈ کی تصدیق کریں
جعلی مصنوعات کی شکایت فوری طور پر ہیلپ لائن 1099 پر کریں
غیر معیاری مواد کے استعمال سے گریز کریں-


