57

سندھ میں دریاؤں کے بہاؤ کی تازہ ترین صورتحال، گڈو بیراج میں پانی کا بہاؤ 6 لاکھ کیوسکس سے تجاوز

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ حکومت کے صوبائی بارشوں اور سیلاب ہنگامی مانیٹرنگ سیل نے صوبے کے بڑے بیراجوں پر پانی کے بہاؤ کی تازہ ترین اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صوبے کے تمام بڑے بیراجوں پر پانی کے داخلی اور خارجی بہاؤ میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

بیراجوں کے اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ
بیراج کا نام داخلی بہاؤ (کیوسکس) خارجی بہاؤ (کیوسکس) فرق
گڈو بیراج 611,051 583,151 27,900
سکھر بیراج 571,800 518,120 53,680
کوٹری بیراج 293,017 282,412 10,605
پنجند 234,755 230,855 3,900

گڈو بیراج: صوبے کا سب سے بڑا بہاؤ
گڈو بیراج پر داخلی بہاؤ 611,051 کیوسکس جبکہ خارجی بہاؤ 583,151 کیوسکس ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ صوبے کے تمام بیراجوں میں سب سے زیادہ بہاؤ ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دریائے سندھ کا یہ حصہ اب بھی قابل ذکر مقدار میں پانی لے کر جا رہا ہے۔

سکھر بیراج: تاریخی اہمیت کا حامل
سکھر بیراج، جو دنیا کے سب سے بڑے بیراجوں میں سے ایک ہے، پر داخلی بہاؤ 571,800 کیوسکس اور خارجی بہاؤ 518,120 کیوسکس ریکارڈ کیا گیا۔ بیراج کے انتظامیہ نے نہری نظام کو درست طریقے سے چلانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے ہیں۔

کوٹری بیراج: زیریں سندھ کے لیے اہم
کوٹری بیراج پر داخلی بہاؤ 293,017 کیوسکس اور خارجی بہاؤ 282,412 کیوسکس ہے۔ یہ بیراج سندھ کے زیریں علاقوں کے لیے پانی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

پنجند: پانی میں کمی
پنجند پر پانی کے بہاؤ میں سب سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے، جہاں داخلی بہاؤ 234,755 کیوسکس اور خارجی بہاؤ 230,855 کیوسکس رہ گیا ہے۔

زرعی ماہرین کا نقطہ نظر
زرعی ماہرین کے مطابق، پانی کے بہاؤ میں یہ کمی فصلوں کی آبپاشی کے لیے تشویشناک ہے۔ خاص طور پر کپاس، چاول اور گنا کی فصلوں کو پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ پانی کے موثر استعمال پر توجہ دی جائے۔

پانی کے بہاؤ کا اقتصادی اثر
سندھ کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے، اور پانی کے بہاؤ میں کمی کا براہ راست اثر معیشت پر پڑے گا۔ ماہرین معیشت کے مطابق، پانی کی کمی سے زرعی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے، جس سے خوارک کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

گزشتہ سال کے ساتھ تقابل
بیراج موجودہ بہاؤ گزشتہ سال اسی تاریخ فرق
گڈو 611,051 589,432 +21,619
سکھر 571,800 562,345 +9,455
کوٹری 293,017 301,234 -8,217
پنجند 234,755 241,678 -6,923
ہنگامی اقدامات
صوبائی حکومت نے بارشوں اور سیلاب کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر ہنگامی مانیٹرنگ سیل قائم کیا ہوا ہے۔ سیل کے ترجمان کے مطابق، وہ 24 گھنٹے نگرانی کر رہے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

عوامی معلومات
عوام سے گزارش ہے کہ وہ دریاؤں کے کناروں پر غیر ضروری موجودگی سے گریز کریں اور حکومتی اداروں کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات پر عمل کریں۔ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں 1122 پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں