کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سرجانی ٹاؤن میں 9 سالہ بچی آسیہ کے پراسرار قتل نے پولیس اور انتظامیہ کے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ ابتدائی طور پر پولیس نے اس واقعے کو خودکشی قرار دیا تھا، لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ نے اس کیس کو جنسی زیادتی کے بعد قتل میں تبدیل کر دیا ہے .
واقعے کی تفصیلات
گزشتہ روز سرجانی ٹاؤن کے علاقے سیکٹر 51 سی میں واقع ایک مکان کی پہلی منزل سے آسیہ کی لاش گلے میں پھندا لگے ہوئے برآمد ہوئی تھی۔ پڑوسی نے چھت پر لٹکی ہوئی لاش دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، لاش ملنے کے وقت گھر پر کوئی موجود نہیں تھا، اور والدین کے درمیان گزشتہ شب ہونے والے جھگڑے کے بعد والدہ گھر چھوڑ کر چلی گئی تھیں .
پولیس کی ابتدائی غلطی اور پوسٹ مارٹم کی اہمیت
شروع میں پولیس نے واقعے کو خودکشی سمجھا اور اس پر کارروائی کی۔ تاہم، بعد ازاں وومن میڈیکولیگل افسر کی جانب سے کی گئی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے حیران کن انکشاف کیا کہ آسیہ کی موت گلا گھونٹے جانے کے باعث ہوئی ہے، نہ کہ خودکشی سے۔ رپورٹ میں جنسی زیادتی کے شواہد بھی ملے ہیں .
تحقیقات کے نئے موڑ
والد نے ابتدا میں پوسٹ مارٹم نہ کرانے پر زور دیا تھا، لیکن پولیس نے اہل خانہ کو راضی کیا۔ میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد کیس کا رخ یکسر تبدیل ہو گیا ہے۔ ابتدائی میڈیکل معائنے کے دوران گلا گھونٹے جانے کے واضح نشانات ملے ہیں، اور مزید تحقیقات کے لیے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں .
کراچی میں اسی نوعیت کے دیگر واقعات
تاریخ مقام متاثرہ واقعے کی نوعیت حوالہ
2025-08-26 ملیر 30 سالہ خاتون جنسی زیادتی اور قتل
2025-06-11 سرجانی ٹاؤن 12 سالہ رومیسہ خودکشی (مشکوک)
2025-07-03 پی ای سی ایچ ایس 13 سالہ عمیرہ پراسرار گراوٹ
پولیس کی کارروائی اور مستقبل کے اقدامات
پولیس نے اس واقعے کی غیر معمولی نوعیت کو دیکھتے ہوئے مزید چھان بین کا فیصلہ کیا ہے۔ سرجانی ٹاؤن پولیس کے افسران کے مطابق، وہ تمام ممکنہ زاویوں سے تحقیقات کر رہے ہیں، بشمول اس کے کہ آیا واقعے میں خاندان کے کسی فرد کا ہاتھ تو نہیں ہے .
عوامی ردعمل اور سماجی شعور
اس واقعے نے سماجی میڈیا پر شدید ردعمل پیدا کیا ہے۔ صارفین نے پولیس کی نااہلی پر سخت تنقید کی ہے، جو ابتدا میں واقعے کو خودکشی قرار دے رہی تھی۔ سماجی کارکنوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی اپیل کی ہے-


