کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان سندھ کے صدر محبوب علی نورانی، اسلم بھٹہ ایڈووکیٹ، ایاز مغل، ارسلان حسین صدیقی اور محمد نسیم نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ڈسٹرکٹ سینٹرل میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن کے نام پر شہریوں سے کروڑوں روپے بھتہ وصول کیا جارہا ہے، جبکہ جو شہری بھتہ نہیں دیتے ان کے قانونی گھروں کو مسمار کر دیا جاتا ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ دوسری جانب پورے کراچی میں غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں اور شہر کو ’’کنکریٹ کا قبرستان‘‘ بنا دیا گیا ہے۔ ایسے علاقوں میں جہاں پانی، بجلی اور گیس کی سہولت تک موجود نہیں، وہاں 25 منزلہ عمارتوں کی منظوری دینا المیہ ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ غریب اور کمزور شہریوں کے گھروں کو بچایا جائے اور قبضہ مافیا و بھتہ خور عناصر کے خلاف فوری کارروائی کر کے ذمے داروں کو گرفتار کیا جائے۔
ہیومن رائٹس کونسل نے اعلان کیا کہ متاثرہ افراد کو قانونی معاونت فراہم کی جائے گی اور سندھ حکومت و قانون نافذ کرنے والے ادارے اس صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔


