57

اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11 فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ

کراچی (ایچ آر این ڈبلیو): اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سود (پالیسی ریٹ) میں کوئی تبدیلی نہ کرتے ہوئے اسے 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مرکزی بینک کے مطابق، موجودہ مالیاتی حالات اور مہنگائی کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ حالیہ ماہ میں مہنگائی میں کچھ کمی کے باوجود یہ شرح معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے۔

تاہم کاروباری حلقوں نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ بزنس مین ایس ایم تنویر نے کہا کہ “کاروباری حلقے شرح سود کے سنگل ڈیجٹ میں آنے کی امید کر رہے تھے۔ مہنگائی میں کمی کے باوجود سود کی 22 فیصد شرح بلاجواز ہے، جو معاشی ترقی میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔”

یاد رہے کہ گزشتہ جون اور جولائی کے لیے بھی اسٹیٹ بینک نے شرح سود کو 22 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔ ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ مرکزی بینک قرضے لینے کی لاگت میں اضافہ کرکے مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم کاروباری حلقوں کا ماننا ہے کہ یہ پالیسی نجی شعبے کے investments کو متاثر کر سکتی ہے۔

اس فیصلے کے بعد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک آنے والے ماہ میں معاشی اشاروں کا جائزہ لے کر اپنی پالیسی میں تبدیلی پر غور کر سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں