کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)شہرقائد کے03 اور اندرون سندھ کے 04 داخلی وخارجی راستوں پر ہائی وے پیٹرول کے ساتھ اے وی ایل سی کا عملہ بھی تعینات کیا جائے۔ایڈیشنل آئی جی کراچی اور ڈی آئی جی اسٹبلشمنٹ فوری طور اے وی ایل سی کے ڈسپوزل پر افرادی قوت دیں-ایس پی سندھ پولیس ہائی وے پیٹرول حیدرآباد اور سکھر کو ایس پی اے وی ایل سی کا اضافی چارج دیا جائے۔
1-آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی ذیر صدارت سندھ پولیس کے شعبہ سی آئی اے کے ذیلی یونٹ “اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل” کی تنظیم نو کے حوالے سے اجلاس۔
2-سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقدہ اجلاس میں سی پی ایل سی چیف ذبیر حبیب،ایڈیشنل آئی جیز،کراچی،آپریشنز، ٹریننگ،ڈی جی سیف سٹی،ڈی آئی جیز، کرائم اینڈ انویسٹی گیشنز،ہیڈکواٹرز،ایڈمن کراچی،سی آئی اے،ٹی اینڈ ٹی، اسٹبلشمنٹ، ٹریننگ،آئی ٹی،ایس ایس پی اے وی ایل سی،اے وی سی سی سمیت اے آئی جیز نے شرکت کی۔
3-اجلاس کے شرکاء کو ایس ایس پی اے وی ایل سی نے شعبہ کے قیام،اغراض و مقاصد، موجودہ صورتحال، کارکردگی اور نتائج سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔
4-شعبہ اے وی ایل سی 2001 سے گاڑیوں کی چوری و چھینےجانیکے کیسز کی تفتیش میں مصروف عمل ہے۔
5-اس شعبہ نے گاڑیوں کی چوری اور اسمگلنگ میں ملوث بدنام زمانہ گینگز اور جرائم پیشہ افراد کو کیفرکردار تک پہنچایا ہے۔
6- جدت اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ جرائم کے طریقہ واردات میں بھی نت نئی تبدیلیاں آئی ہیں۔
7-الحمداللہ سندھ پولیس نے بھی تیکنیکس کے استعمال اور جدید کیمروں کی تنصیب سے ناصرف اندرون شہروں بلکہ داخلی و خارجی راستوں پر بھی جرائم پیشہ افراد کے گرد گھیرا تنگ کردیا ہے۔
8-ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکنالوجی اور افرادی قوت کو ایک ساتھ انٹیگریٹ کرکے استعمال کیا جائے۔
9-شعبہ اے وی ایل سی اندرون اور بیرون صوبہ بھی وہیکل تھیفٹ کے کیسز کی تفتیش کرتاہے۔
10-شعبہ ہذا کو نوجوان اہلکاروں اور تجربہ کار افسران کی ضرورت ہے۔
11-کراچی میں ہونے والے دوتہائی جرائم گاڑیوں کی چوری وچھینے جانے سے متعلق ہوتے ہیں۔
12-شعبہ اے وی ایل سی کو دوبارہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
13-شعبہ کی تنظیم نو سے چھوٹے جرائم کی روک تھام میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔
14-سی پی ایل سی اور اے وی ایل سی گاڑیوں کی چوری و چھینے جانیکے واقعات کے انسداد اوربرآمدگی جیسے اقدامات کو باہم اشتراک سے یقینی بناتا ہے۔
15-شعبہ کو نفری اور آلات کی فراہمی سے جرائم میں کمی اورکارکردگی میں اضافہ یقینی ہے۔
16-بڑی و چھوٹی گاڑیوں کے مقدمات کی تفتیش کے لئے علیحدہ علیحدہ تفتیشی افسران تعینات کرنیکی ضرورت ہے۔
17-ایس فور پروجیکٹ کے انتظامات و نگرانی فوری طور پر سندھ پولیس ہائے وے پیٹرول کے سپرد کی جائے۔
18-سندھ پولیس ہائی وے پیٹرول اور اے وی ایل سی کے درمیان روابط کا میکینزم ترتیب دیا جائے۔
19-چوری اور چھینی گئی گاڑی کی برآمدگی پر عملہ کو کیش روارڈ جبکہ لاپروائی کے مرتکبین سے جواب طلبی کی جائے۔
20-شعبہ اے وی ایل سی کے عملے کو ایمرجنسی ڈیوٹیوں سے مستثنٰی قرار دیا جائے۔
21-شعبہ تفتیش کی کارکردگی کو بہتر اور افرادی قوت میں اضافہ کے لئے طویل مدتی،وسط مدتی اور قلیل مدتی منصوبہ ترتیب دیا گیا-
22-قلیل مدت کے تحت گذشتہ پانچ سال میں بھرتی ہونے والے،وسط مدت کے تحت حالیہ بھرتی ہونے والے اور طویل مدت کے تحت مستقبل میں بھرتی ہونے والے اے ایس آئیز کو شعبہ تفتیش کے مختلف یونٹس میں تعینات کیا جائے گا۔
23-شعبہ اے وی ایل سی کو بھی اسی منصوبہ کے تحت انوسٹیگیشن اے ایس آئیز فراہم کیے جائیں۔
24-گاڑی چوری اور چھینے جانے کی واردات میں متعلقہ ایس ایچ او جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی وڈیو،اے سی ایل سی کو فراہم کرنیکا ذمہ دار ہوگا۔
25-کراچی میں داخلی و خارجی راستوں پر اے وی ایل سی کو درکار نفری ایڈیشنل آئی جی کراچی جبکہ اندرون سندھ میں متعلقہ ایس ایس پیز فراہم کریں گے۔
26-آئندہ اجلاس میں فیصلوں پر عملدرآمد رپورٹ پیش کی جائے۔


