کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ حکومت سیلاب سے متاثرہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں ہر ممکن ریلیف فراہم کر رہی ہے-وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر تمام ضلعی انتظامیہ فیلڈ میں موجود ہے اور متاثرین کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے-تمام کابینہ ارکان، حکومت سندھ کے نامزد فوکل پرسنز، ارکان صوبائی و قومی اسمبلی فیلڈ میں موجود ہیں اور تمام اقدامات کی خود نگرانی کر رہے ہیں-
صوبےکے15اضلاع کی167 یوسیزسےمجموعی طورپر128,057 افراد محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے ہیں-گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 6,288 افراد کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے-حکومت سندھ کے قائم کردہ 154 فکسڈ اور موبائل ہیلتھ کیمپس میں مجموعی طور پر 39,576 متاثرین کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں-
گزشتہ 24 گھنٹوں میں انہی کیمپس میں 5,772 افراد کا علاج کیا گیا-مویشیوں کی منتقلی اور ان کی حفاظت کے لیے بھی انتظامات کیے گئے ہیں- گزشتہ 24 گھنٹوں میں 9,384 مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے ہیں اور اس طرح اب تک 370,161 مویشی منتقل کیے جا چکے ہیں-
پچھلے چوبیس گھنٹوں میں 70,267 مویشیوں کی ویکسینیشن اور علاج کیا گیا، مجموعی طور پر 878,796 مویشیوں کی ویکسینیشن اور علاج مکمل کیا جا چکا ہے-تریموں بیراج پر پانی کی آمد اور اخراج 526,385 کیوسک، پنجند بیراج پر پانی کی آمد و اخراج 489,330 کیوسک رکارڈ ہوا ہے-گڈو بیراج پر پانی کی آمد 390,704 کیوسک اور اخراج 362,070 کیوسک، سکھر بیراج پر پانی کی آمد 324,000 کیوسک اور اخراج 280,050 کیوسک رہا-
کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 244,283 کیوسک اور اخراج 231,763 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے-تربیلا ڈیم 100 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 88 فیصد تک بھر گیا ہے-تربیلا ڈیم کا موجودہ لیول 1550.00 فٹ، منگلا ڈیم کا لیول 1231.00 فٹ، راول ڈیم 1752.00 فٹ اور سملی ڈیم کا لیول 2315.15 فٹ ریکارڈ کیا گیا-
گنڈا سنگھ والا پر انتہائی اونچے درجے کا، تریموں، پنجند اور بلوکی پر بہت اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا-راوی سائفن، شاہدرہ، سدھنائی اور سلیمانکی پر اونچے درجے کا سیلاب موجود ہے-گڈو کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، سکھر، کوٹری پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے-


