کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)جناح اسپتال کراچی کے شعبہ نفسیات کے سربراہ ڈاکٹرچنی لال نے کہا کہ آج کے مصروف دور میں جہاں والدین اپنے بچوں کووقت دینےسےقاصرہیں،اس کمی کی تلافی اولادغیر صحت مند سرگرمیوں جیسے منشیات کے استعمال یا سوشل میڈیا کے غیرمناسب استعمال میں تلاش کرتی ہے، جو انہیں حقیقی دنیا سے دور لے جاتی ہیں۔والدین کی رائے مختلف ہوسکتی ہیں لیکن اولاد کے لئے والدین سے زیادہ کوئی اورخیرخواہ نہیں ہوسکتا۔
ڈاکٹر چنی لال نے مزیدکہا کہ چرس جیسی مضر صحت منشیات کو محض ”جڑی بوٹی” سمجھنے کے رویے پرتشویش کا ظہارکرتے ہوئے کہا کہ چرس اوربالخصوص آئس کا استعمال نوجوان نسل کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ان منشیات کے استعمال سے نہ صرف جسمانی اور ذہنی صحت برباد ہوتی ہے بلکہ خاندانی نظام بھی تباہ ہو رہا ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے بدھ کے روزشعبہ نفسیات جامعہ کراچی کے زیراہتمام چائنیزٹیچرزمیموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں منعقدہ سیمینارو پینل ڈسکشن بعنوان: ”خاموشی توڑنا۔نوجوانوں کے نقطہ نظر کو سمجھنا“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں ذہنی صحت کے نامورماہرین اوراساتذہ نے نوجوانوں کودرپیش بڑھتے ہوئے مسائل پر روشنی ڈالی اوران کے حل کے لئے رہنمائی فراہم کی۔پینل ڈسکشن کی نظامت کے فرائض شعبہ نفسیات کی پروفیسرڈاکٹر قدسیہ طارق نے انجام دیئے۔
معروف ماہر نفسیات ونیشنل پروفیسرجناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹر اقبال آفریدی نے کہا کہ تیز رفتار اور مصروف ترین معاشرتی و معاشی چیلنجز کے پیشِ نظر اور آگے بڑھنے کے دوڑ میں اپنی جسمانی و ذہنی صحت کو بالکل بھی نظر انداز نہ کریں۔ڈاکٹر آفریدی نے کہاکہہماری روزمرہ کی زندگی کا دباؤ اور مصروفیات ہمیں اکثر اس بنیادی حقیقت سے دور کر دیتی ہیں کہ صحت ہی سب کچھ ہے۔ کامیابی اور ترقی کا سفر تب ہی معنی رکھتا ہے جب ہم تندرست و توانا رہیں۔ ہمیں اپنی روزمرہ کی عادات کا جائزہ لے کر ایک متوازن طرز زندگی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے خاندانی اور سماجی رشتوں کو مضبوط بنانے پر زوردیتے ہوئے کہا کہ ہمارے رشتے ہماری مضبوط بنیاد ہیں، انہیں وقت دیجئے اور انہیں مضبوط کیجئے۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی نے نو جوانوں کے مسائل کو سمجھنے، انہیں سننے اور باہمی مکالمے کے ذریعے حل تلاش کرنے کی اشد ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ والدین اور اساتذہ کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کے ساتھ کھل کر بات چیت کریں، ان کے جذبات و خیالات کو سمجھیں اور دوستانہ ماحول فراہم کریں تاکہ نوجوان بلا جھجھک اپنے مسائل شیئر کر سکیں۔اسی طرح، نوجوانوں کو بھی چاہیئے کہ وہ اپنے والدین، سرپرستوں اور اساتذہ پر اعتماد کریں اور ان سے اپنے مسائل، خدشات اور خوابوں کے بارے میں کھل کر بات کریں۔ باہمی ربط اور اعتماد ہی وہ بنیاد ہے جس پر نوجوانوں کے مسائل کے موثر حل تلاش کئے جا سکتے ہیں اور انہیں مثبت رخ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔یہ اقدام نوجوانوں میں ذہنی صحت کے مسائل کو کم کرنے، ان کی خود اعتمادی بڑھانے اور انہیں معاشرے کے کارآمد فرد کے طورپر پروان چڑھانے میں کلیدی کرداراداکرسکتاہے۔
رئیس کلیہ فنون وسماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں ذہنی صحت سے متعلق بدنامی نوجوانوں کو مددلینے سے روکتی ہے۔ہمیں ایک ایساماحول بناناہوگا جہاں نوجوان اپنے مسائل کھل کربیان کرسکیں۔
لیاقت نیشنل اسپتال کے پروفیسرڈاکٹر اقتدار توفیق نے کہا کہ سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال، خاص طور پر نوجوان نسل کی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا منفی اثرات اور اس سے ہونے والی بیماریوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔سوشل میڈیا کا استعمال نشے کی طرح عادی بنادیتاہے،اس کے بے جااستعمال سے حسدمیں اضافہ اور خوداعتمادی میں کمی پیداہوتی ہے۔
شعبہ نفسیات جامعہ کراچی کی پروفیسرڈاکٹر انیلا امبر ملک نے ذہنی صحت،بڑھتے ہوئے نفسیاتی امراض اور تدارک پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سماجی تبدیلی اور اربنائزیشن پر گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ دیہی سے شہری علاقوں کی ہجرت نے خاندانی ڈھانچے اور ثقافتی رشتوں کو کمزورکیاہے۔اس تیزتبدیلی نے نوجوانوں میں ذہنی دباؤاور بے چینی کو بڑھایاہے۔
بحریہ یونیورسٹی کی پروفیسرڈاکٹر زینب بھٹونے خاندانی ماحول کی اہمیت پرزوردیتے ہوئے کہا کہ والدین کاساتھ اور معیاری وقت بچوں کو طویل مدتی ذہنی مسائل سے بچاسکتاہے۔
پروفیسرڈاکٹر آمنہ زہرہ علی نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کی آوازکو سننااور ذہنی صحت کے لئے اہمیت کو اجاگرکرناہے۔انہوں نے بتایا کہ تقریب میں دوحصے شامل ہیں پینل ڈسکشن اور سوال وجواب کا سیشن تاکہ طلبہ اور نوجوان اپنے خیالات اور خدشات کھل کر بیان کرسکیں۔
شعبہ نفسیات وبیہوریل سائنسز جناح اسپتال کے ایسوسی ایٹ پروفیسرڈاکٹر انیل وادھوانی نے ایکو اینگزائٹی کے موضوع پر گفتگوکی اور بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی،نیندکے خراب معمولات اور سکرین ٹائم نے نوجوانوں کی ذہنی صحت کو متاثرکیاہے۔
قبل ازیں صدرشعبہ نفسیات جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر فرح اقبال نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں نوجوان شدید ذہنی دباؤ کا شکارہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک تحقیق کے مطابق گزشتہ دوبرسوں میں تقریباً 45 فیصدنوجوان ذہنی مسائل کا سامنا کرچکے ہیں جبکہ 29 فیصدنے خودکو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچا۔انہوں نے شعبہ کے زیراہتمام ہونے والی مختلف تحقیقی،تدریسی اور مختلف اداروں کے ساتھ جاری سرگرمیوں سے شرکاء کو آگاہ کیا۔


