“جمہوریت اتنی بھی بری نہیں”
مصنف : سید طلعت شاہ
کہتے ہیں جمہوریت “سب سے کم خراب نظامِ حکومت” ہے۔ مگر ہمارے ہاں اکثر یہ سنا جاتا ہے کہ “جمہوریت ناکام ہو چکی، یہ صرف ووٹ کی دوکان ہے، عوام کو جھانسا ہے۔” سوال یہ ہے کہ کیا واقعی جمہوریت ہی قصوروار ہے، یا ہم نے اسے اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا؟ آج جب پاکستان میں جمہوریت کے خلاف ایک نئی لہر اٹھ رہی ہے، تو سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ہم اپنی ناکامیوں کا الزام ایک ایسے نظام پر ڈال رہے ہیں جو درحقیقت ہماری اپنی کمزوریوں کا آئینہ دار ہے؟
جمہوریت: نہ مکمل فرشتہ، نہ سراسر شیطان
جمہوریت کوئی جادو کی چھڑی نہیں جو راتوں رات معاشرے کے تمام زخم بھر دے۔ یہ ایک *عمل* ہے، ایک سفر ہے جس میں عوام، ادارے، اور قیادت مل کر چلتی ہے۔ جب ہم جمہوریت کو صرف “اقتدار کی کرسی” تک محدود کر دیتے ہیں، تو پھر یہی ہوتا ہے کہ اسمبلیوں میں ہاتھا پائی ہو، وزیروں کے بیانات میں تضاد ہو، اور عوام کی آواز دب جائے۔ مگر کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جمہوریت کی اصل طاقت “احتجاج کی آزادی، عدالتوں کی خودمختاری، میڈیا کی بے باکی، اور عوامی فیصلوں میں شرکت” ہے؟ یہ وہ بنیادیں ہیں جو کسی بھی معاشرے کو مضبوط بناتی ہیں۔
جمہوریت اور انسانیت کے حقوق
انسانی حقوق کی جنگ میں جمہوریت سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ جہاں جمہوریت کمزور ہو، وہاں اقلیتوں کے حقوق سسک سسک کر مرتے ہیں، خواتین کی آوازیں دبائی جاتی ہیں، اور صحافت کو گولیوں سے نوازا جاتا ہے۔ پاکستان میں اگر آج کوئی این جی او مزدوروں کے حقوق کی بات کر سکتی ہے، کوئی دانشور مذہبی انتہا پسندی پر سوال اٹھا سکتا ہے، تو یہ جمہوریت ہی کا کرشمہ ہے۔ یاد رکھیے: آمریت چاہے کتنی ہی “ترقی” کا نعرہ لگائے، وہ کبھی بھیڑیے کو دودھ پلانے والی بکری کی طرح بے ضرر نہیں ہوتی۔
پاکستان کا المیہ: ہم نے جمہوریت کو “نظریہ” نہیں، “کاروبار” بنا لیا
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے جمہوریت کو صرف الیکشن تک محدود کر دیا۔ ووٹ کی حرمت کو جعلی ووٹوں نے پامال کیا، عوامی نمائندوں کو “خاندانی جاگیردار” بنا دیا گیا، اور اداروں نے اپنی حدود کو پار کیا۔ مگر یہ سب کرنے والے “ہم” ہی تو ہیں! کیا ہم نے کبھی اپنے ووٹ کی قدر کی؟ کیا ہم نے کبھی اپنے نمائندوں سے سوال کیا؟ جب تک عوام اپنی ذمہ داریوں سے بھاگیں گے، جمہوریت کا گلہ کرنا بے کار ہے۔
کیا متبادل ہے؟
جمہوریت کے ناقص ہونے پر شکوہ کرنے والوں سے پوچھیے: کیا آپ فوجی آمریت چاہتے ہیں؟ کیا مذہبی بنیاد پر حکومت کے نام پر اقلیتوں کو نیست و نابود کر دیا جائے؟ کیا آمریت کے دور میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر ہوئی؟ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کے ادوار ہی وہ وقت تھے جب میڈیا آزاد ہوا، عدلیہ نے سر اٹھایا، اور شہریوں کو اپنے حقوق کا احساس ہوا۔
آخرِ بات
جمہوریت کوئی مکمل نظام نہیں، مگر یہ ہمیں “مکالمے، اصلاح، اور احتساب” کا موقع دیتی ہے۔ اسے رد کرنے کے بجائے، ہمیں اسے بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ جیسے اقبال نے کہا تھا:
“جمہوریت وہ نظامِ حکومت ہے کہ جس میں بندوں کو گنا جاتا ہے، تولا نہیں کرتے۔
ہمیں اپنے ووٹوں کو “گنتی” سے آگے بڑھ کر “قیمت” دینا ہوگی۔ تبھی جمہوریت کا پھل میٹھا ہوگا۔
سید طلعت شاہ
(ایک سوچنے والا شہری جو جمہوریت کی کمزوریوں کو اس کی طاقت میں بدلنے کا خواہاں ہے)
یہ کالم انسانی حقوق کے فروغ اور جمہوری اقدار کی بحالی کے لیے لکھا گیا ہے۔ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے میں مکالمے، رواداری، اور احتساب کی فضا کو مضبوط بنائے۔


