سائٹ ایریاحیدرآباد کی تباہ حالی پرسلیم میمن کا شدیدتشویش کا اظہار

حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر سلیم میمن نے اپنے ایک ردعمل میں سائٹ ایریا حیدرآباد کی تباہ حالی، بدانتظامی اور غفلت پر شدید تشویش کا اِظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سائٹ لمیٹڈ کی عدم دلچسپی اور ناقص حکمت عملی کی وجہ سے حیدرآباد کی صنعتیں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ سائٹ ایریا حیدرآباد کی سینکڑوں فیکٹریاں باقاعدگی سے سائٹ لمیٹڈ کو مینٹیننس، سیوریج، سڑکوں کی تعمیر، نالوں کی صفائی اور پانی کی فراہمی کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے ادا کرتی ہیں لیکن اُس کے باوجود یہاں نہ سڑکیں ہیں، نہ نکاسی آب کا کوئی مربوط نظام ہے، نہ ہی پینے کے صاف پانی کی سہولت میسر ہے۔

خاص طور پر برسات کے دنوں میں سائٹ ایریا جو صنعتی پیداوار کا مرکز ہونا چاہیے ایک جوہڑ کا منظر پیش کرتا ہے۔ اُنہوں نے انکشاف کیا کہ ہاشمی کالونی اور سائٹ ایریا کے بیشتر روڈز پر سرے سے ڈرینج سسٹم موجود ہی نہیں جس کے باعث ہر فیکٹری کو اپنی مدد آپ کے تحت پانی نکالنے کے لیے مہنگی موٹریں اور مشینیں نصب کرنی پڑتی ہیں۔

اُنہوں نے اِس بات پر بھی اَفسوس کا اِظہار کیا کہ حکومت سندھ نے سائٹ حیدرآباد کی بہتری کے لیے ایک اَرب 10 کروڑ روپے کا بجٹ تو جاری کیا لیکن تاحال کسی قسم کا جامع لے آؤٹ پلان سامنے نہیں آسکا۔ فنڈز کے شفاف استعمال، موثر نگرانی اور معیاری تعمیراتی کاموں کے بغیر یہ رقم بھی ماضی کی طرح ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ سائٹ لمیٹڈ کی روڈ کنسٹرکشن پالیسی سراسر ناقص ہے۔ نئی سڑکیں پُرانی سڑکوں پر ڈال کر سطح بلند کر دی جاتی ہے، جس سے بارش کا پانی واپس فیکٹریوں میں داخل ہو جاتا ہے اور قیمتی سامان اور مشینری کو نقصان پہنچاتا ہے۔

صدر چیمبر سلیم میمن نے سائٹ ایریا میں تجاوزات اور غیر قانونی پارکنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرکوں کی غلط پارکنگ کی وجہ سے نہ صرف ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوتا ہے بلکہ فیکٹریوں کو سامان کی ترسیل میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فائر برگیڈ یا ریسکیو سروسز کا سائٹ کے اندر پہنچنا ناممکن بن جاتا ہے جو ایک صنعتی زون کے لیے ناقابل قبول صورتحال ہے۔

اُنہوں نے سائٹ ایریا میں جرائم پیشہ عناصر کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر بھی گہری تشویش ظاہر کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ ملازمین کو تنخواہیں دیتے وقت فیکٹریوں کے باہر اُنہیں لُوٹنے کی وارداتیں معمول بن چکی ہیں۔ اِس خطرناک صورتحال کے پیشِ نظر سائٹ ایریا میں پولیس موبائلز کی مستقل تعیناتی ناگزیر ہے۔

صدرچیمبر سلیم میمن نے کہا ہے کہ گنجو ٹکر کی 300 ایکڑ صنعتی اراضی جس کے لیے تاجروں کی جانب سے کروڑوں روپے کی ادائیگی برسوں قبل حکومت کو کی جا چکی ہے آج تک الاٹ نہیں کی گئی اور نہ ہی کوئی ترقیاتی کام شروع ہوا جو سندھ کی صنعتی ترقی کے لیے ایک سنگین رُکاوٹ ہے۔

اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر زمین کی ڈیمارکیشن، ماسٹر پلان کی منظوری اور الاٹمنٹ کا عمل شروع کیا جائے تاکہ صنعتکاروں کا اعتماد بحال ہو اور خطے کی معیشت آگے بڑھے۔

صدر چیمبر سلیم میمن نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے کئی نئے صنعتی زونز کے قیام کے بڑے اعلانات تو کئے جا چکے ہیں مگر تاحال اُن پر کوئی عملی قدم نہیں اُٹھایا گیا جو صنعتی ترقی اور ملکی معیشت کی بہتری کے دعوؤں سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اُنہوں نے کہا کہ جب تک نئے صنعتی زونز قائم نہیں ہوں گے ملک میں روزگار کے مواقع اور برآمدات میں اضافہ ممکن نہیں۔صدر چیمبر سلیم میمن نے حکومتِ سندھ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سائٹ حیدرآباد کی مکمل ماسٹر پلاننگ فوری طور پر کرائی جائے تاکہ ڈرینج، سیوریج، سڑکوں اور پانی کی فراہمی کا نظام اَز سرِ نو بنایا جا سکے۔

اِس کے ساتھ سائٹ لمیٹڈ کے فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے اور جاری کردہ 1 اَرب 10 کروڑ روپے کے فنڈ پر چیمبر،نعتکاروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی نگرانی میں منصوبہ بندی کی جائے۔ فیکٹریوں کے اطراف سے تجاوزات کا فوری خاتمہ کیا جائے اور غلط پارکنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے تاکہ ایمرجنسی سروسز کی روانی یقینی بنائی جا سکے۔

سائٹ ایریا میں مستقل پولیس موبائل تعینات کی جائے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جا سکے اور ملازمین کی جان و مال کا تحفظ ممکن بنایا جاسکے۔ فیکٹری ایریاز میں جدید ڈرینج سسٹم لگایا جائے تاکہ بارش کے دنوں میں پانی کی نکاسی یقینی بنائی جا سکے۔

اِس موقع پر اُنہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری ایک تاجر برادری کا نمائندہ ادارہ ہے جسے ہر سرکاری بورڈ، کمیٹی اور پالیسی ساز اجلاسوں میں نمائندگی دی جائے تاکہ کاروباری برادری کی رائے اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر فیصلے کئے جا سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں