کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)جامعہ کراچی کےشعبہ کمپیوٹرسائنس(یو بی آئی ٹی) اوراسماعیل انڈسٹریزلمیٹڈ کے مابین منگل کے روز وائس چانسلر سیکریٹریٹ جامعہ کراچی میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے گئے، جس کا مقصد تعلیمی میدان میں تکنیکی ترقی اور صنعت و جامعہ کےاشتراک کوفروغ دینا ہے۔مفاہمتی یادداشت پرجامعہ کراچی کےوائس چانسلر پروفیسرڈاکٹرخالد محمودعراقی اور اسماعیل انڈسٹریز لمیٹڈکی ڈائریکٹر انیسہ ایچ نوی والانے دستخط کئے۔اس موقع پر ر ئیس کلیہ علوم جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر مسرت جہاں یوسف،چیئرمین شعبہ کمپیوٹرسائنس ڈاکٹر صادق علی خان،شعبہ کمپیوٹرسائنس کی فیکلٹی،ڈائریکٹر آفس آف ریسرچ اینوویشن اینڈکمرشلائزیشن جامعہ کراچی ڈاکٹر سیدہ حورالعین،ان کی ٹیم،منصورحسن قادری ودیگربھی موجودتھے۔
مفاہمتی یادداشت کے مطابق اسماعیل انڈسٹریز لمیٹڈ شعبہ کمپیوٹر سائنس میں ایک جدید اور مکمل طور پر فعال اسمارٹ کلاس روم تیار کرے گاجس میں جدید ترین تدریسی ٹیکنالوجی شامل کی جائے گی تاکہ انڈرگریجویٹ پروگرامز کو بہتر طریقے سے سپورٹ فراہم کی جا سکے۔
اسماعیل انڈسٹریز لمیٹڈ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی آلات فراہم کرے گا، جن میں ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ سسٹمز،انٹرایکٹو لرننگ ورڈز،ورچوئل رئیلٹی ڈیوائسزمصنوعی ذہانت (AI) اور سائبر سیکیورٹی کی تعلیم سے متعلق آلات شامل ہوں گے۔اسماعیل انڈسٹریز لمیٹڈکلاس روم ڈیزائن، ٹیکنالوجی کے انضمام اور تدریسی ٹیکنالوجی کے استعمال میں مشاورتی خدمات فراہم کرے گا۔
علاوازیں شعبہ کمپیوٹر سائنس اور اسماعیل انڈسٹریز لمیٹڈ باہمی تحقیق و ترقی (R&D) میں اشتراک کریں گے، خاص طور پر ابھرتے ہوئے شعبہ جات جیسے مصنوعی ذہانت (AI) اور انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) کے شعبوں میں، جن کا اطلاق تعلیمی اور صنعتی دونوں ماحول میں کیا جا سکے گا۔یہ مفاہمتی یادداشت جامعہ اور صنعت کے درمیان مضبوط شراکت داری کا آغاز ہے، جس کا مقصد نہ صرف تدریسی معیار کو بہتر بنانا ہے بلکہ پاکستان میں تکنیکی ترقی کو بھی فروغ دینا ہے۔
صدرشعبہ کمپیوٹرسائنس ڈاکٹر صادق علی نے بتایا کہ شعبہ ہذا میں حال میں ہی ایک نجی شعبہ کے تعاون سے عصر حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ دواے آئی کلاس رومز تعمیر کئے گئے ہیں جس سے شعبہ ہذاکے طلبہ استفادہ کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شعبہ کمپیوٹرسائنس میں داخلوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر اے آئی کلاس رومز کی مزید ضرورت ہے اور مجھے امید ہے کہ اس سال کے آخر تک اسماعیل انڈسٹریز لمیٹڈکے تعاون سے ایک مزیداے آئی کلاس روم شعبہ کا مستقل حصہ بن جائے گا۔
اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہاکہ چین کی حیران کن رفتار سے ترقی کی بنیاد صرف صنعتی پالیسیاں، برآمدات یا انفراسٹرکچر نہیں بلکہ تعلیم پر سرمایہ کاری ہے، چین اپنے جی ڈی پی کا تقریباً چار فیصد دفاع پر خرچ کرتا ہے، جبکہ تعلیم کے لیے یہ شرح آٹھ فیصد کے لگ بھگ ہے۔ یہ دوگنا فرق نہ صرف پالیسی سازوں کے وژن کی عکاسی کرتا ہے، بلکہ ایک ترقی یافتہ قوم کی جانب بڑھتے ہوئے اقدامات کو بھی واضح کرتا ہے۔چین کا یہ ماڈل ان تمام ترقی پذیر ممالک کے لیے مشعلِ راہ ہو سکتا ہے جو معاشی بحرانوں اور ترقی کی سست روی کا شکار ہیں۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ جامعات اورصنعتوں اشتراک سے نہ صرف تحقیق و ترقی کو فروغ ملے گا بلکہ طلبہ کو عملی میدان سے ہم آہنگ تربیت بھی میسر آئے گی، جس سے اُن کے لیے روزگار کے بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔ڈاکٹر خالد عراقی نے بتایا کہ جامعہ کراچی نے حالیہ برسوں میں مختلف صنعتی، طبی، آئی ٹی ودیگر اداروں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں، جو تعلیم، تحقیق اور انٹرن شپ کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔انہوں نے کہا تعلیمی اداروں اور نجی صنعتوں کے مابین اس قسم کا اشتراک دنیا بھر میں جدید تعلیمی رجحانات کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں بھی اس روایت کے فروغ دیاجائے۔


