شعبہ سافٹ ویئرانجینئرنگ کی طالبہ کی بنائی ہوئی ڈیوائس ایک بہترین تخلیقی کاوش ہے

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)سندھ وومین بار ایسوسی ایشن کے وفد نے صدر درخشاں جہاں کی قیادت میں سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا دورہ کیا اورچانسلر اکبر علی خان سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور زیرِ بحث آئے۔سندھ وومین بار ایسوسی ایشن کی صدر درخشاں جہاں نے کہا کہ ان کے لیے انصاف، وقار اور قانونی پیشے میں خواتین کی مساوی نمائندگی کی تحریک کی قیادت کرنا نہ صرف ایک اعزاز ہے بلکہ ایک اہم ذمہ داری بھی ہے۔انھوں نے بتایا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کی خدمات کو نظراندازکیا جاتا ہے اور اس منفی رجحان کو تبدیل کرنے کے لیے ہی ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لایا گیاجو ایک علامتی پلیٹ فارم نہیں ہے بلکہ ایک مضبوط قانونی ادارے کے طور پر خواتین کی مدد، پیشہ ورانہ ترقی اور بے خوف وکالت کے ذریعے انھیں بااختیار بنانے کے لیے پُر عزم ہے۔ہم ایک ایسے مستقبل کی تعمیر کررہے ہیں جہاں خواتین نہ صرف نظام انصاف میں حصہ دار ہوں گی بلکہ اس کی تبدیلی کی معمار بھی ہوں گی۔

درخشاں جہاں نے خواتین کے تحفظ کے لیے تیار کردہ ڈیوائس ”سیف ویئر“ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سرسید یونیورسٹی کے شعبہ سافٹ ویئر انجینئرنگ کی طالبہ بسمہ آصف کی بنائی ہوئی یہ ڈیوائس ایک بہترین تخلیقی کاوش ہے جس کا مقصد کسی بھی غیر متوقع خطرے کی صورت میں خواتین کو فوری طور پر مدد فراہم کرنا ہے۔۔درخشاں جہاں نے اس ڈیوائس کو اپنی ممبر خواتین وکلاء میں متعارف کرانے کو وعدہ بھی کیا۔

اس موقع پر سرسید یونیورسٹی کے چانسلر محمداکبر علی خان نے کہا کہ قوانین صرف اسی صورت میں موثر ثابت ہوتے ہیں جب ان پر صحیح طریقے سے عملدرآمد کیا جائے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلاشبہ قانون سازی بہت اہم ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ مردوں کے مائنڈ سیٹ میں تبدیلی بھی ضروری ہے تاکہ وہ عالمی تناظر میں سماجی اور اقتصادی حقائق کو تسلیم کرسکیں۔ اس موقع پرسرسید یونیورسٹی اورعلیگڑھ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی ہراسمنٹ کمیٹی(Harrasment Committee) کی کنوینئر محترمہ ارم اکبر علی خان نے کہا کہ سماجی و معاشی طور پر امتیازی سلوک اوروسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، معاشرے میں خواتین کی موثر حیثیت کو تسلیم کرانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔پارلیمنٹ وہ پلیٹ فارم ہے جہاں قانون سازی کی جاتی ہے اور ترجیحات کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے، ہم دیکھتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں میں خواتین کو اکثر خالی نشستوں کو پُر کرنے کے لیے رکھا جاتا ہے اور انہیں اہم عہدوں اور فیصلوں میں برائے نام شریک کیا جاتا ہے۔

محترمہ ارم اکبر علی نے اس بات پر افسوس کا اظہارکیا کہ خواتین کے تحفظ کے لیے کئے جانے والے اقدامات اتنے موثر ثابت نہیں ہوسکے ہیں۔خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ان پر تشدد کا سلسلہ آج بھی جاری ہے جواس مسئلے کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔یہ نہ صرف عورتوں کے بنیادی حقوق کی پامالی ہے، بلکہ اس سے عورتوں کا معاشرتی کردار بھی محدود ہو جاتا ہے جس کی وجہ سےجمہوری، سماجی اور اقتصادی ترقی کی رفتار بھی متاثر ہوتی ہے۔

تقریب کے شرکاء میں علیگڑھ انسٹی ٹیوٹ کے کنوینئر محسن کاظم، رجسٹرار سید سرفراز علی،، ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد عامر، ڈاکٹر محمد نسیم، ڈاکٹرکاشف شیخ، ڈائریکٹر کوآرڈینیشن جہانگیر احسان، اورک کی مینجر ہما احمد و دیگر شامل تھے۔ اختتامِ تقریب پر سرسید یونیورسٹی کے چانسلرمحمد اکبر علی خان نے سندھ وومین بار ایسوسی ایشن کی صدر درخشاں جہاں کو یونیورسٹی کا نشان پیش کیا اور ممتاز ادیب و دانشور محمد ذاکر علی خان کی مقبول ترین کتاب ’روایات علیگڑھ‘ پیش کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں