لاہور(ایچ آراین ڈبلیو) تحریک عوام پاکستان کے وائس چیئرمین محمد فرقان اعوا ن نے پنجاب اور ملک کے دیگر حصوں میں بارشوں کی تباہ کاریوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں قدرتی آفات بھی غریب اور متوسط طبقے کے لئے تباہی کا پیغا م لاتی ہیں. بیرون ملک محلات میں رہنے والے صرف ووٹ کے لئے پاکستانی عوام کو اپنا چہرہ دکھاتے ہیں پاکستان کے اقتدار پر قابض خاندان عوام کے حالات سے مکمل طور پر ناواقف ہیں. تحریک عوام پاکستان کی مرکزی کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وائس چیئرمین محمد فرقان اعوان نے کہا کہ قوم کو غلامی در غلامی کے چنگل سے نکلننے کے لئے متحد ہونا پڑے گا. گیس پانی اور بجلی کے لئے ترستے شہری اپنے حقوق کے لئے تحریک عوام پاکستان کا ساتھ دیں. پاکستان افریقی اقوام سے بھی بہت پیچھے جا چکا ہے. اکثریت کا ریاست پر اعتماد متزلزل ہو رہا ہے. کسی تباہ کن تاخیر سے پیشتر سنجیدہ طبقوں کو بھی پاکستان کی خاطر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پارٹی کی مرکزی کابینہ میں ردو بدل کے حوالے سے طلب کئے گئے تحریک عوام پاکستان کے ہنگامی اجلاس کے شرکا میں آفتان اعوان، اقبال حسین، عبد الحمید اعوان، محمد قدیر، اقبال اختر، سلمی روبی، محمد ارشد او ر محمد حسین اعوان نے شرکت کی۔ اجلاس کے شرکا نے کراچی کے عوام پر گاڑیوں کی نئی نمبر پلیٹوں کے نام پر لوٹ مار کی سخت الفاظ میں مزمت کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے شہریوں کا مسئلہ نئی نمبر پلیٹس نہیں بلکہ پانی، گیس اور بجلی کی فراہمی ہے، کراچی کی تمام سڑکیں کھدائی کر کے کھنڈر بنادی گئی ہیں میں شاہراہوں پر بھی نا گاڑیاں چلانا ممکن ہے نا ہی موٹر سائکل سوار ان شاہراہوں پر بحفاظت سفر کر سکتے ہیں، صوبائی اور مقامی حکومتیں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے عوام کو بنیادی ضروری سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی بجائے مبنی بر تعصب نمبر پلیٹوں کے قضیے میں الجھا کر لوٹ مار کی کاراوئیوں میں مصروف ہیں، تحریک عوام پاکستان کے وائس چیئرمین محمد فرقان اعوان نے کہا کہ کراچی سے گلگت تک قوم کو اپنے حقوق کے لئے علاقائی اور لسانی تنازعات سے باہر نکلنا ہوگا، پاکستان کے وسائل پر قابض خاندان گذشتہ ستر سالوں سے عوام کو زبان، قوم، ذات اور علاقے کے نام پر تقسیم کر کے ریاستی وسائل کو اپنی نسلوں کے لئے بیرون ملک منتقل کرنے میں مصروف ہیں. پاکستان کے حقیقی وارثوں نے آج اگر آنکھیں نا کھولیں تو پورا ملک آئندہ کئی صدیوں تک ان چند خاندانوں کی غلامی سے نجات حاصل نہیں کر سکے گا۔


