گفتگوہزاروں مسائل کا حل ہے،دوسروں کی سنیں،اس سےحل کاراستہ نکلتاہے،علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ واقعہ کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ حق و باطل کے درمیان ایک ایسا معرکہ ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کو یہ سبق دیتا ہے کہ حق کے لیے ڈٹ جانا چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں اور ظلم و جبر کے سامنے کبھی سر نہیں جھکانا چاہیے۔حضرت امام حسین ؓ کا پیغام آج بھی ہر مظلوم کے دل میں روشنی پیدا کرتا ہے اور ہر ظالم کے لئے للکار بنتا ہے۔حضرت امام حسینؓ نے اپنی اس بظاہر آٹھ دن کے قیام کربلا کے دوران جو زندگی گزاری، اس نے ہمیں رہنما اصول عطاکئے، وہ ہم سب کے لئے بلاتفریق ہر شخص کی ضرورت ہے۔گفتگوہزاروں مسائل کا حل ہے،اپنا مدعارکھیں اور دوسروں کی سنیں کیونکہ یہ حل کا راستہ نکالنے میں معاون ثابت ہوتاہے۔تمام مسائل اورجھگڑوں کا حل گفتگوسے ہی نکلتاہے اور یہ کربلاکا پیغام ہے۔ہمیں ایک دوسرے کو سننے اور برداشت کرنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہا رانہوں نے جامعہ کراچی کے دفتر مشیر امور طلبہ کے زیر اہتمام پارکنگ گراؤنڈ (بالمقابل آرٹس لابی) جامعہ کراچی میں منعقدہ ”یوم حسینؓ “ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پرجامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہا کہ یومِ حسینؓ نہ صرف مسلمانوں کے لیے بلکہ ہر دردِ دل رکھنے والے انسان کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ ظلم و ناانصافی کے خلاف خاموشی جرم کے مترادف ہے۔ آج ہمیں امام حسینؓ کی تعلیمات سے سبق لیتے ہوئے معاشرتی عدل، انسانی حقوق اور امن و بھائی چارے کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ ان کی یہ عظیم قربانی صرف ایک مذہبی واقعہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی ایک لازوال مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ مکالمہ ایک ایسا ذریعہ ہے جو غلط فہمیوں کو دور کرنے، اختلافات کو سمجھنے اور پرامن حل تلاش کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جب لوگ سننے اور سنانے کا حوصلہ رکھتے ہوں، تو بڑے بڑے تنازعات بھی آسانی ختم ہوجاتے ہیں۔

ڈاکٹر خالدعراقی نے کہا کہ ہتھیار، فوجی سازوسامان، اور افراد کی بڑی تعداد وقتی اور مادّی طاقت فراہم کر سکتی ہیں، لیکن ایمان وہ روحانی اور باطنی طاقت ہے جو انسان کو حق، صبر، استقلال اور قربانی کے راستے پر قائم رکھتی ہے، حتیٰ کہ وہ ظاہری شکست کو بھی فتح میں بدل دیتی ہے۔سچ،حق اور انصاف پر مبنی معاشرہ نہ صرف افراد کی انفرادی فلاح کا ضامن ہوتا ہے بلکہ اجتماعی ترقی و استحکام کا بھی ذریعہ بنتا ہے۔

مولانا منظرالحق تھانوی نے کہا کہ آج ہماری زندگی میں حسینیت کتنی ہے،سب کو اپنا جائزہ خودلیناہے،اگرحسینیت کی کمی ہے توہم درندگی اور یزیدیت کی طرف جارہے ہیں اوراگرحسینیت کا بول بالاہورہاہے توشکرکے لمحات ہیں اور یہ سجدہ شکر کا لمحہ ہے۔اس موقع پر علامہ سیداحمد اقبال رضوی ودیگر نے بھی خطاب کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں