وفاقی و صوبائی بجٹ 2025-26 اصلاحات قابلِ تحسین، مگر کاروباری طبقے کے لیے ریلیف کا فقدان تشویشناک

حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن، سینئر نائب صدر احمد ادریس چوہان اور نائب صدر شان سہگل نے وفاقی اور صوبائی بجٹ 2025-26ء پر مشترکہ ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ دونوں حکومتوں نے ترقیاتی اہداف، ڈیجیٹل اصلاحات اور سماجی شعبوں میں فنڈز کے اضافے کو بجٹ کا حصہ بنایا ہے، تاہم چھوٹے تاجروں، صنعتکاروں اور کاروباری طبقے کے لیے عملی ریلیف اور پائیدار سہولیات کا فقدان واضح طور پر محسوس کیا گیا ہے۔

صدر چیمبر محمد سلیم میمن نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایس ایم ای پالیسی 2024-27ء، ایف بی آر میں ڈیجیٹل ریفارمز، آٹومیٹڈ ریفنڈ سسٹم اور فیس لیس آڈٹ جیسے اقدامات قابلِ تحسین ضرور ہیں، لیکن اِن اِصلاحات پر عملی اور تیز رفتار عملدرآمد کے بغیر یہ اقدامات محض کاغذی کارروائی بن کر رہ جائیں گے۔ بجٹ میں کیش آن ڈیلیوری، ڈیجیٹل سروسز اور ڈیجیٹل پریزنس پر نئے ٹیکسز کا نفاذ اُن چھوٹے آن لائن کاروباروں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے جو ابھی ابتدائی سطح پر ہیں۔

سینئر نائب صدر احمد ادریس چوہان نے کہا کہ سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرحوں میں اضافہ، جسے 1.5 فیصد سے بڑھا کر 2 فیصد اور بعض شعبوں میں 3.5 فیصد تک کیا گیا ہے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی لاگت میں مزید اِضافہ کرے گا۔ اِس کے ساتھ ساتھ صنعتی بجلی کے نرخوں میں کوئی کمی، ٹائم آف یوز ٹیرف یا ایس ایم ای کے لیے کسی قسم کی سبسڈی کا ذکر تک نہیں کیا گیا، جو توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے پیشِ نظر ایک بڑی کوتاہی ہے۔

نائب صدر شان سہگل نے کاربن لیوی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فرنس آئل پر لیوی کو 2.5 فیصد سے بڑھا کر 5 فیصد کرنے کی تجویز اُن چھوٹی صنعتوں کے لیے نقصان دہ ہے جو ابھی تک مکمل طور پر سولر یا متبادل توانائی پر منتقل نہیں ہو سکیں۔ اِس سے پیداوار کی لاگت مزید بڑھے گی اور مسابقتی صلاحیت متاثر ہو گی۔

سندھ کے بجٹ کے مثبت پہلوؤں پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر چیمبر نے کہا کہ تعلیم، صحت اور انفرا اسٹرکچر کے لیے فنڈز میں اضافہ خوش آئند ہے، جبکہ پروفیشنل ٹیکس، انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی، ڈرینج سسٹم اور دیگر بعض مقامی محصولات کے خاتمے سے عام شہری کو کچھ مالی ریلیف ضرور ملے گا۔ تاہم، سندھ بجٹ میں بھی ایس ایم ایز مارکیٹوں اور صنعتی زونز کے لیے کوئی براہِ راست مالی پیکیج، سبسڈی اسکیم یا کاروباری ماحول کی بہتری کے اقدامات نہیں کیے گئے، جو ایک اَفسوسناک پہلو ہے۔

سینئر نائب صدر نے کہا کہ اگر حکومت واقعی کاروباری ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں سنجیدہ ہے تو اُسے ایس ایم ایز کے لیے الگ ٹیکس زمرہ متعارف کرانا ہو گا جس میں کم شرح، سادہ ریٹرن فارم، آسان اقساط اور سبسڈی پالیسی شامل ہو۔ اِسی طرح ٹیکس ریفارمز اور ڈیجیٹل اقدامات سے قبل متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت ضروری ہے تاکہ پالیسیاں زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہو سکیں۔

نائب صدر شان سہگل نے زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشی بحالی اور دستاویزی معیشت کا خواب اِس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا جب تک چھوٹے کاروباروں کو حقیقی سہولت، اعتماد اور مالی تحفظ فراہم نہ کیا جائے۔ صرف تنخواہوں، بڑے ترقیاتی منصوبوں اور قرضوں پر مرکوز بجٹ دراصل اس اہم طبقے کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے جو معیشت کی اصل بنیاد ہے۔

چیمبر عہدیداران نے بجٹ میں سیلز ٹیکس ایکٹ کی دفعہ 37AA کو شامل کرنے کو غیر آئینی، غیر جمہوری اور کاروباری دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے اُسے مکمل طور پر مسترد کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اِس دفعہ کے تحت ایف بی آر اَفسران کو صرف شک کی بنیاد پر کسی بھی تاجر کو بغیر وارنٹ گرفتار کرنے اور 14 دن تک غیر قانونی حراست میں رکھنے کا اختیار دینا نہ صرف آئین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ کاروباری طبقے کو ہراساں کرنے اور بد اعتمادی پھیلانے کی کھلی سازش ہے۔

حیدرآباد چیمبر حکومت سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ اِس شق کو فی الفور واپس لیا جائے، بصورت دیگر ملک گیر سطح پر آئینی، قانونی اور پُر اَمن احتجاج کا راستہ اپنایا جائے گا۔ اُنہوں نے وفاقی بجٹ 2025-26ء میں سکھر تا حیدرآباد موٹروے M6 جیسے قومی اہمیت کے حامل منصوبے کے لیے صرف 15 ارب روپے کی علامتی رقم مختص کرنے کو سندھ کے ساتھ کھلی ناانصافی قرار دیا۔

اُنہوں نے کہا کہ اِس منصوبے کی مجموعی لاگت 400 اَرب روپے سے زائد ہے اور اِس رفتار سے فنڈنگ جاری رہی تو یہ منصوبہ آئندہ دہائی میں بھی مکمل نہیں ہو پائے گا۔ یہ غیر سنجیدہ رویہ نہ صرف سندھ بلکہ ملکی معیشت، تجارتی ترسیل اور قومی رابطہ کاری کے ساتھ سراسر زیادتی ہے، جسے کاروباری برادری مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں