توہین عدالت کا مرتکب ہونا انصاف کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہے

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)لیاقت علی ساہی سیکریٹری جنرل ڈیموکریٹک ورکرزیونین (سی بی اے) اسٹیٹ بینک آف پاکستان، ایس بی پی ۔ بیکنگ سروسزکارپوریشن نےمحمد بوٹا کے کنٹریکٹ کو رینول نہ کئے جانے پر ورکرز سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ بیس سالوں سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اوراس کےذیلی اداروں میں آفسران کیڈرز میں مستقل بنیادوں پر بھرتیاں کی جا رہی ہیں لیکن کلریکل اور نان کلریکل کیڈرزمیں کنٹریکٹ اورتھرڈ پارٹی کنٹریکٹ پربھرتیاں کرکےملک دستور کی نہ صرف خلاف ورزی کی جارہی ہے بلکہ ایمپلائمنٹ اسٹینڈنگ آرڈر1968 کی بھی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان اوراس کے ذیلی اداروں کی انتظامیہ انصاف کی دھجیاںطاقت کے ب بوتےپربکھیررہی ہے ان غیر منصفانہ پالیسیوں کے خلاف ڈیمو کریٹک ورکرز یونین مسلسل جدوجہد کر رہی ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ملک کا مرکزی بینک ہےاورچوبیس کروڑ عوام کی امانتوں کا امین ہے اگر اپنے ادارے میں محنت کشوں کو انصاف فراہم نہیں کرسکتے اور طاقت بل بوتے پر محنت کشوں کے بنیادی حقوق کو سلب کرے گی تو اس کی میرٹ اور شفافیت کے سوال نہ صرف ملکی سطح پر کھڑے ہونگے بلکہ بین القوامی سطح پر بھی تنقید ہوگی چونکہ آئی ایل او کنویشن 87 اور 98 حکوی مت نے Ratifiedکیا ہوا ہے اس کے تحت ملک بھر کے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے ادارے پابند ہیں کہ ورکرز کو ٹریڈ یونین کا حق فراہم کریں اور سی بی اے بننے کا موقع فراہم کریں اگر ان صحت من سرگرمیوں کو اداروں کو انتظامیہ روکے گی تو آئی ایل او کنویشن کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ محمد بوٹا سی بی اے کے عہدیدار ہیں سیالکوٹ آفس میں کنٹریکٹ پر ہیں جس نے ریاست کے قوانین کی روشنی میں این آئی آر سی لاہور بینچ میں درخواست دی کہ ایمپلائمنٹ اسٹینڈنگ آرڈر 1968 کے تحت میں تمام شرائط مسقل ہونے کیلئے مکمل کرچکا ہوں مجھے مستقل کیا جائے اس پر معززعدالت نے ان کی پٹیشن کو ایڈمٹ کرتے ہوئے ان کی ملازمت کے سلسلے واضح آرڈر جاری کیا کہ کوئی Reversal آرڈر انتظامیہ نہیں کرے گی اس کے باجود جب کنٹریکٹ رینول کا وقت آیا تو ابھی تک انتظامیہ نے ان کا کنٹریکٹ رینول نہیں کیا بلکہ ان کو ڈیوٹی سے روک کر توہین عدالت کی مرتکب ہوئی ہے ۔ اس سلسلے میں گورنر اسٹیٹ بینک کو بھی سی بی اے کی طرف سے تحریری طور پر نشاندھی کی ہے کہ بی ایس سی کی انتظامیہ توہین عدالت کرکے ادارے کی ساکھ کو داؤ پر لگا رہی ہے اس کا نوٹس لیا جائے ، اگر عدالتوں کے فیصلوں کو ادارے تسلیم نہیں کریں گے تو ملک میں جنگل کا قانون تصور کیا جائے گا ہم سمجھتے ہیں کہ این آئی آر سی کے چیئرمین، وزیراعظم پاکستان ، پارلیمنٹ ، پاکستان بار کونسل، مزدور، صحافی اور سول سوسائیٹی کی تنظیموں کیلئے بھی باعث تشویش ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور اس کے ذیلی اداروں کی انتظامیہ عدالتوں کا مذاق اُڑا رہی ہیں اور اپنے غیر آئینی فیصلوں کو طاقت کے بل بوتے پر تسلیم کروانا چاہتی ہیں اس پر گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جناب محمد جمیل کو غور فکر کرنا ہوگا ان کی سربراہی میں پہلی مرتب ادارے کی طرف سے توہین عدالت کی گئی اس کا نوٹس لیا جائے سی بی اے یونین تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کے سامنے محنت کشوں کے ساتھ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور اس کے ذیلی اداروں میں ناانصافیوں کو اُجاگر کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں