حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو) لیاقت یونیورسٹی ہسپتال حیدرآباد و جامشورو کے انتظامی افسران اور ایڈمنسٹریشن کا اہم اجلاس میڈیکل سپرٹینڈنٹ ڈاکٹرعلی اکبر ڈاہری کی زیر صدارت کانفرنس ہال میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں اسپتال کے مختلف وارڈز/ شعبہ جات کو بہتر انداز میں منظم کرنے،مریضوں کو میعاری سہولیات کی فراہمی اور انتظامی خامیوں کو دور کرنے کے حوالے سے غور و خوض کیا گیا۔اجلاس میں ڈائریکٹر آئی سی یو ڈاکٹر کاشف میمن ،اے ایم ایس جنرل ڈاکٹر محمد علی قائم خانی، اے ایم ایس ڈاکٹر مجیب الرحمن کلوڑ ،اے ایم ایس ڈاکٹر مرتضی میمن، اے ایم ایس ڈاکٹر علی نواز عباسی، اے ایم ایس ڈاکٹر نفیس چوہان اور آر ایم او جنرل ڈاکٹر فیصل میمن سمیت تمام رجسٹرار ایڈمن وانچارجز شعبہ جات بھی شریک تھے ۔اجلاس میں ہسپتال کے انتظامی امور میں آنے والے درپیش مسائل کے حل اور ہسپتال کی ترقی و مزید بہتری کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے تفصیلی جائزہ لیا گیا جس میں مختلف وارڈ اور دیگر شعبہ جات کو مزید جدید اور زیادہ بہتر کرنے کے لیے تجاویز لی گئیںتاکہ پوری سندھ سے آنے والے غریب مریضوں کو گورنمنٹ آف سندھ کے وژن کے مطابق بہترین و جدید علاج کی سہولیات زیادہ سے زیادہ فراہم کی جاسکیں ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر علی اکبر ڈاہری نے کہا کہ ہسپتال کا ہر وارڈ/ شعبہ ہماری اولین ترجیح ہے اور ہماری بھرپور کوشش ہے کہ مریضوں کو جدید تقاضوں کے مطابق محفوظ طبی سہولیات فراہم کی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال کے تمام مریضوں کا بہترین علاج و معالجہ اور ان کی دیکھ بھال سمیت صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ ایم ایس ڈاکٹر علی اکبر ڈاہری نے اجلاس میں موجود تمام رجسٹرا ریڈمن و انچارج شعبہ جات کو ہدایت کی کہ اپنی ڈیوٹی شفٹ کے اختتام پر دوسری شفٹ میں آنے والے افسران کو اپنی تمام ذمہ ذمہ داری ان کے سپرد کی جائے اور وارڈ میں زیر علاج مریضوں کے حوالے سے تمام معلومات بھی انہیں فراہم کی جائیں تاکہ نئے شفٹ میں آنے والے انچارجز وافسران مریضوں کے علاج و معالجہ اور ہسٹری کے حوالے سے واقف ہو سکیں اور اسی کے مطابق ان کا علاج جاری رہ سکے۔اجلاس میں تمام رجسٹرار ایڈمن وانچارجز شعبہ جات و عملے کی کمی، طبی آلات کی ضرورت اور سیکورٹی کے متعلق ایم ایس کو آگاہ کیا گیا جس پر ایم ایس نے تمام نکات کو سنجیدگی سے سنا اور فوری اقدامات اٹھانے سمیت انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ ہمیں ہسپتال کے انتظامی امور میں آنے والی کسی بھی قسم کی رکاوٹوں کو سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے جبکہ مریضوں کے ساتھ بہترین اخلاقی، تہذیبی اور دوستانہ رویہ رکھا جائے اور غیر اخلاقی رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔


