“اکیسویں صدی اور اردو کا مستقبل” کے حوالے سے ایک انتہائی فکر انگیز نشست منعقد

گزشتہ جشن اردو کی سہ روزہ تقریب میں “اکیسویں صدی اور اردو کا مستقبل” کے حوالے سے ایک انتہائی فکر انگیز نشست منعقد ہوئی ۔ مقررین میں شعبہ ابلاغیات کے سابق صدر ‘ کالم نگار ‘ دانشور ڈاکٹر مجاہد منصوری ‘ منہاج یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہ اردو ڈاکٹر مختار عزمی ‘ سرگودھا یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہ اردو پروفیسر مقبول نثار ملک ‘ پاکستان قومی زبان تحریک کے صدر نشین جمیل بھٹی’ صدر پروفیسر سلیم ہاشمی ‘ شعبہ خواتین کی صدر فاطمہ قمر ‘ محقق ‘ مورخ ‘ صحافی ڈاکٹر اکمل سومرو ‘ ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی ‘ انگریزی ادبیات کی استاد اور ادیبہ محترمہ روزینہ فیصل ‘ ڈاکٹر عابدہ بتول’ حکیم راحت نسیم سوہدروی ‘ پاکستان قومی زبان تحریک کے نوجوانوں کے صدر ذیشان بیگ ‘ پشاور سے تشریف لائے ہوئے پروفیسر کرم ستار یعقوبی صاحب تھے! تمام مقررین نے پاکستان کی ترقی ‘ خوشحالی اور یکجہتی کےلئے عدالت عظمیٰ کے نفاذ اردو فیصلے پر عمل درآمد پر زور دیا’ استادوں کے استاد ڈاکٹر مجاھد منصوری نے کہا کہ نوجوانوں کا سہ روزہ جشن اردو کا انعقاد ‘ پاکستان قومی زبان تحریک کے مشن کی تکمیل کی ایک اہم پیش رفت ہے نوجوانوں کے یہی جذبہ نفاذ اردو فیصلے پر عمل درآمد کا باعث بنے گا’ جشن اردو کے تمام پروگرام بہت خوب صورت اور اردو کی محبت میں سرشار’ ہو کر ترتیب دئیے گئے ہیں ان شاءاللہ! وہ اس پر تفصیلی کالم بھی لکھیں گے’ پروفیسر مقبول نثار ملک نے کہا وہ اردو کی درس و تدریس کے لئے بہت ذوق و شوق سے کام کرتے رہے ہیں ان کی اردو کی تاریخ پر لکھی گئ کتاب نہ صر پاکستان کی درس گاہوں میں پڑھائی جارہی ہیں بلکہ بھارت کی درس گاہوں میں بھی پڑھائی جارہی ہیں ۔اج کا موضوع انتہائی تفصیل طلب نشست کا متقاضی ہے جس کے لئے ایک الگ سے مجلس کا انعقاد ہونا چاہیے ‘ منہاج یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہ اردو ‘ نفاذ اردو کے مخلص ساتھی ڈاکٹر مختار عزمی نے کہا کہ نوجوانوں کا جشن اردو منانا ‘ پاکستان قومی زبان کے مشن کی کامیابی ہے’ ڈاکٹر اکمل سومرو نے کہا کہ پاکستان میں انگریزی کا تسلط دراصل دور غلامی کی یاد ہے جس میں انگریزی بولنے والے کو “قابل” سمجھا جاتا ہے ۔ دانشور ‘ نفاذ اردو کے مخلص راہنما حکیم راحت نسیم سوہدروی نے کہا کہ ان شاءاللہ! پاکستان میں اردو کا مستقبل بہت روشن ہے’ ڈاکٹر عابدہ بتول نے کہا کہ نوجوانوں کا جشن اردو منانا بہت حوصلہ افزا اقدام ہے’ محترمہ روزینہ فیصل نے کہا کہ میں قانون کے طلباء کو انگریزی پڑھاتی ہوں مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ بچوں کو درست اردو لکھنی نہیں آتی ‘ انہیں اردو بہت مشکل لگتی ہے ‘ انہوں نے کہا نوجوان نسل کو اردو کی طرف راغب کرنے کے لئے اردو کے ادیبوں اور اساتذہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ تمہارا لکھا ہوا ادب کوئی نہیں پڑھ سکے گا’ پاکستان قومی زبان تحریک کی پر خلوص ساتھی ‘ دیرینہ رہنما ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی صاحبہ نے کہا کہ وہ حال ہی میں ترکی سے واپسی آئی ہیں تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں ترک اپنے تمام مقالا جات ترکی زبان میں پیش کرتے ہیں ۔ حیرت ہے کہ پاکستانی انگریزی میں پیش کرتے ہیں کہ ایک ایسی ہی تقریب میں ‘ جس میں انگریزی میں موسلا جات پیش کئے جارہے تھے تو میں نے ہمت کر کے ‘ اس خیال کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کہا ” معذرت! مجھے آپ کی انگریزی کی بالکل سمجھ نہیں آ رہی ” انہوں نے بتایا کہ میری اس بات کو تمام حاضرین نے سراہا اس کے بعد سب نے اپنے مقالات جات اردو میں پیش کئے یہ ہے وہ آسانی جو اردو سے پیدا ہوتی ہے ‘ بات کرنے والے کو پتا ہوتا ہے وہ کیا کہہ رہا ہے ‘ بات سننے والے کو پتا چلتا ہے کہ اسے کیا پیغام دیا جارہا ہے یعنی دو طرفہ پیغام رسانی ہوتی ہے’ پروفیسر سلیم ہاشمی نے کہا کہ نفاذ اُردو فیصلے پر عمل درآمد پاکستان کے جملہ مسائل کا حل ہے اور اس کے لئے کسی لمبے چوڑے منصوبے کی ضرورت نہیں صرف ایک انتظامی حکم سے عدالت عظمیٰ کے نفاذ اردو فیصلے پر عمل درآمد ہوسکتا ہے فاطمہ قمر نے کہا کہ اگر سکاٹ لینڈ ‘ اور برطانیہ کی پارلیمان کا حلف اردو میں لیا جاسکتا ہے ‘ اگر خطبہ حج دنیا کی پانچ بڑی زبانوں ‘ جن میں ایک اردو بھی شامل ہے دیا جاسکتا ہے ‘ اگر اقوام متحدہ نئے سال کا پیغام دنیا کی چھ عالمی زبانوں کے ساتھ ساتویں عالمی زبان اردو میں بھی دیتی ہے تو پھر پاکستان کا نظام مملکت بھی اردو میں چلایا جاسکتا ہے ‘ اگر چیف جسٹس آسیہ ملعونہ کیس کا فیصلہ اردو میں اس لئے لکھ سکتا ہے کہ تاکہ عوام کو سمجھ آ سکے تو پھر عوام کی سمجھ ہی کے لئے تمام عدالتی کارروائی اور فیصلے اردو میں لکھے جاسکتے ہیں ‘ نوجوانوں کے صدر ذیشان بیگ نے کہا کہ وہ اپنے اکابرین کی سرپرستی میں نفاذ اردو کے پیغام کے لئے ہر وقت حاضر ہیں پروگرام کے آخر میں پاکستان قومی زبان تحریک کے صدر محمد جمیل بھٹی نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا وقت کی کمی کے باعث مذید بات کرنا ممکن نہیں تھا ۔ ان شاءاللہ! جلد ہی نفاذ اردو کی ایک تفصیلی نشست کا انعقاد کریں گے !
اس خوبصورت تقریب کی نقابت ڈاکٹر اے اڑ ماڈھا نے بہت عمدگی سے کی۔ تلاوت محمد فیض نے کی اور نعت قرآن آسان تحریک کے روح رواں محمد اشرف صاحب نے پڑھی
شرکاء میں ہر شعبہ زندگی کی ممتاز شخصیات شامل تھیں جن کہنہ مشق صحافی محمد فاروق بھٹی ‘ ملی ادبی پنچائیت کے روح رواں خواجہ ریاض احمد حسان ‘ جاگو تحریک لاہور کے سیکریٹری محترم طیب احمد ‘ سٹیزن کونسل آف پاکستان کے صدر ایڈوکیٹ رانا امیر احمد خان ‘ بیوٹی کلب کی صدر فروا افتخار ‘ زرقا فاطمہ ‘ وردہ نایاب ‘ نائب امیر جماعت اسلامی احسان اللہ تبسم’ وفا صاحبہ’ یونس عزیز ‘ عدنان عالم ‘ مرکز اردو کے صدر حامد انوار’ اکرم فضل شامل تھے ۔
نشست کے آخر سہہ روزہ جشن اردو کی منتظم ‘ تنظیم “یس” کی طرف سے تمام مہمانوں کو یادگاری سونیر پیش کیا گیا! جس پر اردو کی محبت و عظمت سے سرشار’ یہ شعر رقم تھا!
اردو ہے جس کا نام ‘ ہم ہی جانتے ہیں داغ!
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے!
اردو کے حوالے ان نوجوانوں کا سہ روزہ جشن اردو کا انعقاد ان ادبی تنظیموں کے لئے بھی غور و فکر کا مقام ہے جو اردو ادبی کی کانفرنسوں کو ” لٹریری فیسٹیول” کانام دے کر’ دعوت نامے انگریزی میں جاری کر کے ایک طرف تو اپنی غلامانہ سوچ اور احساس کمتری کا ثبوت دیتے ہیں دوسری طرف عوام کی آنکھوں میں بھی “فروغ ادب” کی جھول دھونکتے ہیں ۔ان
نام نہاد “لٹریری فیسٹیول” میں کبھی بھی نفاذ اردو کا مطالبہ نہیں کیا جاتا ‘ نہ ہی نفاذ اردو کی آگہی کے حوالے سے کوئی نشست منعقد کی جاتی ہے’ اردو کے نام پر نوکری کرنے والے ‘ اردو کے نام پر مراعات حاصل کرنے والے نفاذ اردو کے معاملے میں بالکل گم سم ہیں ‘ پچیس فروری کو یوم اردو ‘ آٹھ ستمبر کو عدال عظمیٰ کے نفاذ اردو فیصلے کی سالگرہ کے دن لسانیات کے تمام اداروں پر مردنی چھائی ہوئی ہوتی ہے جب کہ عوام الناس اپنے طور پر یہ دن جوش و خروش سے مناتے ہیں اس لحاظ سے جشن اردو کے منتظم “یس ” کے صدر عرفان بٹ اور ان کے نوجوانوں کا اردو سے محبت کا جذبہ انتہائی لائق تحسین ہے اتنے شاندار جشن اردو کے نام پر ہم ان کو مبارکباد اور سلام پیش کرتے ہیں! سچ تو یہ ہے ان نوجوانوں نے علامہ اقبال کی اس تمنا کی تکمیل کی ہے!

اپنا تبصرہ بھیجیں