9

لاہور ہائیکورٹ: عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی معطل کرنے کی استدعا مسترد

**لاہور — (ایچ آراین ڈبلیو)**لاہور ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے نوٹیفکیشن فوری طور پر معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کرکے جواب طلب کرلیا۔

جسٹس عبہر گل خان نے ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف درخواستوں کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے رانا مدثر عمر اور بیرسٹر تیمور ملک عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پنجاب حکومت کی نمائندگی فرخ لودھی ایڈووکیٹ نے کی۔

درخواست گزاروں کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں خواتین کو 30 روز کے لیے نظر بند کیا گیا ہے اور ان کی نظر بندی کے لیے قانونی جواز موجود نہیں۔ وکلا کی جانب سے ڈاکٹر عظمیٰ خان کے ایک مقدمے میں بری ہونے سے متعلق ٹرائل کورٹ کے فیصلے کی نقل بھی عدالت کے سامنے پیش کی گئی۔

وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ نظر بندی کے نوٹیفکیشن فوری طور پر معطل کیے جائیں۔ تاہم عدالت نے فوری معطلی کی درخواست منظور کرنے کے بجائے متعلقہ حکام سے رپورٹ اور جواب طلب کرنے کا فیصلہ کیا اور فریقین کو نوٹسز جاری کردیئے۔

رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت 30 روز کے لیے نظر بند کیا گیا تھا۔ یہ کارروائی 27 ستمبر کو پی ٹی آئی کے مجوزہ ملک گیر احتجاج اور اسلام آباد مارچ سے قبل سامنے آئی ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

کسی بھی شخص کی نظر بندی بنیادی آزادیوں اور قانونی تحفظات سے متعلق معاملہ ہے۔ ایسے اقدامات میں قانونی جواز، شفاف طریقہ کار اور عدالتی نگرانی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ عدالت کی جانب سے متعلقہ حکام سے جواب طلب کرنا فریقین کا مؤقف عدالتی ریکارڈ پر لانے کے عمل کا حصہ ہے۔

سیاسی سرگرمیوں اور احتجاج کے تناظر میں ریاستی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کے قانونی اور آئینی حقوق کا بھی تحفظ یقینی بنایا جائے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر عدالتی کارروائی اور دستیاب میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ نظر بندی سے متعلق درخواست گزاروں اور سرکاری حکام کے مؤقف کو ان کی جانب سے پیش کردہ مؤقف کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ عدالت کی جانب سے حتمی فیصلہ آنے تک کسی بھی فریق کے قانونی دعوے کو حتمی عدالتی نتیجہ تصور نہ کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں