**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے چار سال سے لاپتا شہری کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے دوران لاپتا افراد سے متعلق قانونی ترامیم اور حراستی مراکز میں مجسٹریٹس کے دوروں کے حوالے سے اہم ریمارکس دیے ہیں۔
درخواست لاپتا شہری کے بھائی سعید الدین کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے ماضی میں بلوچستان کے 70 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو حکومت سے 50، 50 لاکھ روپے بھی دلوائے گئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ بلوچستان میں لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق قانون میں ترمیم ہوچکی ہے اور وہاں حراستی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں مجسٹریٹ دورہ کرکے کیسز سنتا ہے۔
عدالت کے مطابق نئی قانونی ترامیم اور مجسٹریٹس کے دوروں کے بعد لاپتا افراد سے متعلق مقدمات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے یہ بھی کہا کہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں بھی اسی نوعیت کا قانون بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ لاپتا شہری کی بازیابی کے لیے لاپتا افراد بازیابی کمیشن کی جانب سے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے سرکاری کیس مینجمنٹ نظام کے مطابق عدالت میں کیس اسٹیٹس، عدالتی فیصلوں اور کیس ریکارڈ تک رسائی کے لیے مختلف سہولیات موجود ہیں۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
لاپتا افراد کا معاملہ انسانی حقوق، شہری آزادی اور قانون کی حکمرانی سے براہِ راست متعلق ہے۔ کسی شہری کی طویل عرصے تک عدم دستیابی کی صورت میں اس کے خاندان کو معلومات، قانونی کارروائی اور مؤثر تفتیش تک رسائی ملنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
حراستی مراکز، مجسٹریٹس کی نگرانی اور متعلقہ قانونی طریقہ کار کا مقصد اگر شہریوں کے قانونی حقوق اور حراست کے معاملات میں شفافیت یقینی بنانا ہے تو اس کے مؤثر نفاذ، عدالتی نگرانی اور خاندانوں کو بروقت معلومات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہونے والی سماعت، عدالتی ریمارکس اور درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ عدالتی ریمارکس کو حتمی عدالتی فیصلے یا تمام لاپتا افراد کے مقدمات پر عمومی حتمی نتیجے کے طور پر نہ سمجھا جائے۔ متعلقہ مقدمے کے حتمی قانونی احکامات عدالت کے ریکارڈ کے مطابق ہوں گے۔


