**لاہور — (ایچ آراین ڈبلیو)**لاہور ہائیکورٹ نے چوہنگ پولیس کے اہلکاروں کے خلاف دائر توہینِ عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران آئی جی پنجاب راؤ عبد الکریم کو **24 ستمبر کو ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو پیش ہونے کا حکم** دے دیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے شہری میاں محمد جمیل کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران ایس پی عبداللہ عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سیشن کورٹ نے 2021 میں درخواست گزار کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا، جسے بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ وکیل کے مطابق ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے مقدمہ درج کرنے کے حکم کو معطل کردیا تھا، تاہم اس کے باوجود پولیس نے درخواست گزار کے خلاف مقدمہ درج کردیا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ایس پی عبداللہ سے ایف آئی آر پڑھنے کو کہا۔ عدالت کے مطابق پولیس افسر ایف آئی آر کا متن واضح طور پر پڑھنے یا بیان کرنے میں دشواری کا شکار رہے، جس پر چیف جسٹس نے ایف آئی آر کے تحریری معیار پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
عدالت نے پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ اور وضاحت پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا اور آئی جی پنجاب کو متعلقہ ریکارڈ سمیت ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب کو ایک دوسرے توہینِ عدالت کے معاملے میں بھی طلب کیا گیا ہے، جس میں ایک شہری نے پولیس اہلکاروں پر عدالتی احکامات کے باوجود مبینہ ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
عدالت نے دونوں معاملات میں مزید سماعت **24 ستمبر** تک ملتوی کردی۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
عدالتی احکامات پر عمل درآمد، منصفانہ تفتیش اور شہریوں کے قانونی حقوق کا تحفظ قانون کی حکمرانی کے بنیادی اصول ہیں۔ پولیس کے خلاف شکایات یا عدالتی احکامات کی مبینہ خلاف ورزی کے معاملات میں شفاف تحقیقات اور عدالتی نگرانی شہریوں کے اعتماد کے لیے اہم ہیں۔
ایف آئی آر سمیت قانونی دستاویزات واضح، درست اور قابلِ فہم انداز میں مرتب ہونا بھی انصاف کے مؤثر نظام کے لیے ضروری ہے، تاکہ شہری اپنے خلاف درج مقدمات اور قانونی کارروائی کی نوعیت سے آگاہ رہ سکیں۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر عدالتی کارروائی اور دستیاب میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے پولیس پر عائد الزامات کو حتمی طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ معاملے پر حتمی قانونی حیثیت عدالت کی مزید کارروائی کے بعد واضح ہوگی۔


