7

پشاور ہائیکورٹ نے افغان ٹرینی ڈاکٹرز کی ملک بدری روک دی

**پشاور — (ایچ آراین ڈبلیو)**پشاور ہائیکورٹ نے خیبر پختونخوا کے مختلف میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں زیرِ تربیت افغان طلبہ اور ٹرینی ڈاکٹرز کی ملک بدری کے خلاف دائر درخواستوں پر انہیں آئندہ سماعت تک افغانستان واپس بھیجنے سے روک دیا ہے۔

عدالت نے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق درخواست 14 افغان طلبہ کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تمام درخواست گزار افغان شہری ہیں اور انہیں مختلف میڈیکل و ڈینٹل کالجز میں افغان کوٹے کے تحت داخلہ دیا گیا تھا۔ وکیل کے مطابق بعض طلبہ کئی سال سے پاکستان میں اپنی طبی تعلیم اور تربیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ طلبہ قانونی دستاویزات اور ویزوں کے تحت پاکستان میں موجود ہیں، تاہم پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) کی جانب سے جاری ہدایات کے بعد متعلقہ میڈیکل کالجز نے بھی طلبہ کو ملک چھوڑنے کے لیے نوٹس جاری کیے ہیں۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ایم ڈی سی کی ہدایات کے نتیجے میں طلبہ کے داخلے اور طبی تربیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس اقدام سے ان کے آئینی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔

پشاور ہائیکورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے تحریری جواب طلب کرلیا اور درخواست گزار افغان طلبہ کو آئندہ سماعت تک ملک بدر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

تعلیم تک رسائی، قانونی حیثیت، مناسب قانونی طریقۂ کار اور انسانی وقار بنیادی حقوق سے متعلق اہم معاملات ہیں۔ زیرِ تعلیم طلبہ کے معاملے میں پالیسی یا انتظامی فیصلوں کے قانونی اثرات، ویزا حیثیت اور تعلیمی حقوق کا شفاف جائزہ ضروری ہے۔

عدالت کی جانب سے عبوری حکم کا مقصد حتمی فیصلہ دینا نہیں بلکہ مقدمے کے حتمی فیصلے تک درخواست گزاروں کے معاملے کو زیرِ سماعت رکھنا ہے۔ اس دوران تمام متعلقہ فریقین کو قانون کے مطابق اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر عدالتی کارروائی اور دستیاب میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ عدالت کا موجودہ حکم عبوری نوعیت کا ہے اور مقدمے کے حتمی فیصلے کی نمائندگی نہیں کرتا۔ درخواست گزاروں اور متعلقہ سرکاری اداروں کے مؤقف کو ان کی جانب سے پیش کردہ مؤقف کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں