9

آئی جی سندھ کی نویں سی ایس آر لیڈرشپ کانفرنس میں شرکت، کمیونٹی پولیسنگ اور ٹیکنالوجی پر زور

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے روٹری کلب کراچی بے اور انٹیلیکٹس کلب کے زیر اہتمام نویں سی ایس آر لیڈرشپ کانفرنس 2026 میں شرکت کی۔

کراچی کے ایک نجی ہوٹل میں منعقدہ کانفرنس میں چیئرمین انٹیلیکٹس کلب محمد حنیف خان، پیٹرن ان چیف ایڈمرل ریٹائرڈ تنویر احمد، سیکریٹری جنرل زیشان ہاشمی، صدر روٹری کلب کراچی بے میجر ریٹائرڈ پرویز اعوان، روٹری کلب کراچی کے سیکریٹری سید تحریم احمد سمیت بزنس کمیونٹی کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ کارپوریٹ سیکٹر کے پاس وسائل اور معاشرے پر اثرانداز ہونے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے، اس لیے اس کی سماجی ذمہ داریاں بھی اسی تناسب سے اہم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ **کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی (CSR)** اب صرف مالی معاونت یا فلاحی منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ معاشرے میں مثبت ماحول پیدا کرنا بھی اس کا اہم حصہ ہے۔

آئی جی سندھ نے کہا کہ سوشل میڈیا کے دور میں منفی باتیں تیزی سے پھیلتی ہیں، اس لیے مثبت اقدامات اور اچھی کارکردگی کو اجاگر کرنا بھی ایک اہم سماجی ذمہ داری ہے۔

جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ پولیس کا بنیادی فرض شہریوں کی جان، مال اور عزت کا تحفظ اور جرائم پر قابو پانا ہے، تاہم جدید دور میں پولیسنگ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوچکی ہے۔ پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد اور رابطے کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ **کمیونٹی پولیسنگ جدید پولیسنگ کا بنیادی جزو** بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں شہری اور پولیس شراکت داری کی ایک اہم مثال **سی پی ایل سی** ہے، جس نے جرائم کے سدباب اور تفتیش میں پولیس کے ساتھ مؤثر کردار ادا کیا ہے۔

آئی جی سندھ کے مطابق کراچی جیسے بڑے شہر میں روایتی پولیسنگ کے طریقے اب کافی نہیں رہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک نگرانی ناگزیر ہوچکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی کے **18 سے زائد تھانوں کی حدود میں کمیونٹی اور نجی شعبے کے تعاون سے ’’منی سیف سٹی‘‘ طرز کے نگرانی نظام** قائم کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق کراچی میں مجموعی طور پر **40 ہزار سے زائد کیمروں کے نیٹ ورک** سے استفادہ کیا جا رہا ہے، جس نے جرائم کی تفتیش اور ملزمان کی گرفتاری میں نمایاں مدد فراہم کی ہے۔

جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ **کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی اور کمیونٹی پولیسنگ ایک ہی بنیادی تصور کے دو پہلو ہیں** اور ریاستی اداروں، کاروباری برادری اور عوام کے درمیان مضبوط شراکت داری ناگزیر ہے۔

تقریب کے اختتام پر مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کرنے والے اراکین کو ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

### انسانی پہلو

محفوظ اور پُرامن معاشرے کے قیام میں پولیس، شہریوں، کاروباری اداروں اور سول سوسائٹی کے باہمی تعاون کا اہم کردار ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ کمیونٹی کی شمولیت شہریوں کے تحفظ اور پولیس پر اعتماد کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

### HRNW Support Appeal

Human Rights News Worldwide (HRNW) انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے عوامی مفاد کی رپورٹنگ اور آگاہی کے ذریعے کام کرتا ہے۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### Disclaimer

یہ رپورٹ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کے کانفرنس سے خطاب اور فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ پولیسنگ، کیمروں اور نگرانی کے نظام سے متعلق اعداد و شمار اور دیگر تفصیلات کی آزادانہ طور پر HRNW نے تصدیق نہیں کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں