8

سرجانی ٹاؤن کا محمد حسین اسکول مسائلستان، 503 بچوں کا مستقبل بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی سے متاثر

**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**کراچی کے ڈسٹرکٹ ویسٹ میں ٹی ایم سی منگھوپیر کی زیر نگرانی 5-D سرجانی ٹاؤن میں قائم محمد حسین پرائمری اینڈ ایلیمنٹری اسکول بنیادی سہولیات کی شدید قلت کا شکار ہے، جہاں تقریباً 503 بچے بجلی، پانی، مناسب صفائی، فرنیچر، اضافی کلاس رومز اور سیکیورٹی سمیت متعدد ضروری سہولیات سے محروم ہیں۔

تحقیقی رپورٹنگ کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق اسکول کی عمارت کی حالت بھی تشویشناک ہے۔ تقریباً آٹھ کلاس رومز کی کھڑکیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جبکہ متعدد کمروں کی چھتیں خستہ حال ہوچکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چھتوں سے پلستر کے ٹکڑے متعدد مرتبہ گر چکے ہیں۔ تاحال کسی طالب علم کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں، تاہم والدین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کسی بھی وقت حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

### 2023 سے بجلی کی سہولت موجود نہیں

رپورٹ کے مطابق اسکول میں 2023 سے بجلی کی سہولت دستیاب نہیں، جس کے باعث شدید گرمی میں طلبہ و طالبات کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ والدین اور ذرائع کے مطابق گرمی کی شدت کے باعث بچوں کے بے ہوش ہونے کے واقعات بھی پیش آتے رہے ہیں۔

بجلی کی عدم دستیابی کے باعث پانی کی فراہمی بھی متاثر ہے، جبکہ اسکول میں صفائی کے لیے مستقل سویپر اور سیکیورٹی کے لیے چوکیدار بھی موجود نہیں۔

### واش رومز صفائی کے عملے کے بغیر

اسکول کے تینوں واش رومز صفائی کے مستقل عملے کی عدم موجودگی کے باعث خراب حالت میں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق صفائی نہ ہونے کی وجہ سے واش رومز میں تعفن اور بدبو پیدا ہوگئی ہے، جس سے بچوں کے لیے ان کا استعمال دشوار ہے۔

### ایک کمرے میں تین جماعتوں کی کلاسز

503 بچوں کے لیے دستیاب کلاس رومز کی کمی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بعض اوقات ایک ہی کمرے میں بیک وقت تین جماعتوں کو پڑھایا جارہا ہے۔

فرنیچر کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے اور بعض کلاسز میں دو سے تین بچوں کو ایک ہی ڈیسک پر بیٹھنا پڑتا ہے۔

اس صورتحال کے باوجود ہیڈ مسٹریس سمیت 11 معلمات تدریسی امور انجام دے رہی ہیں، جبکہ پورے اسکول کے لیے صرف ایک ہیڈ کلرک موجود ہے۔

### سیکیورٹی بھی سوالیہ نشان

اسکول میں چوکیدار نہ ہونے کے باعث تدریسی اوقات کے بعد عمارت کی سیکیورٹی بھی ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق شام کے اوقات میں بعض افراد مبینہ طور پر دیواریں پھلانگ کر اسکول کے احاطے میں داخل ہوتے ہیں، جس سے سرکاری تعلیمی ادارے کی عمارت اور بچوں کے تحفظ سے متعلق خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

### انتظامیہ کو شکایات، مسائل برقرار

رپورٹ کے مطابق اسکول انتظامیہ کی جانب سے بجلی، پانی، صفائی، عمارت کی مرمت اور دیگر بنیادی ضروریات کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ٹاؤن چیئرمین علی نواز بروہی کو متعدد مرتبہ زبانی اور تحریری طور پر آگاہ کیا جاچکا ہے۔

ذرائع کے مطابق مسائل حل کرنے کی یقین دہانیاں طویل عرصے سے جاری ہیں تاہم عملی طور پر صورتحال میں نمایاں بہتری نہیں آسکی۔

### فنڈز کے استعمال اور سم کوڈ پر سوالات

اسکول کے لیے جاری ہونے والے فنڈز کے استعمال کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تنخواہوں کے علاوہ دیگر مد میں موصول ہونے والے فنڈز کے خرچ سے متعلق شفاف معلومات دستیاب نہیں۔

رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اسکول کے قیام کے کئی سال گزرنے کے باوجود ادارے کا سم کوڈ تاحال جاری نہیں ہوسکا، جس کے باعث اسکول کے انتظامی اور مالی معاملات کے حوالے سے مزید سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

تاہم ان مالی اور انتظامی دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ سرکاری ریکارڈ سے جانچ ضروری ہے۔

### اساتذہ اور والدین اپنی مدد آپ کے تحت اخراجات برداشت کرنے پر مجبور

ذرائع کے مطابق اسکول کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے تدریسی اور انتظامی عملہ اپنی مدد آپ کے تحت بعض اخراجات برداشت کرتا ہے۔

والدین بھی بجلی، پانی، صفائی اور دیگر بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف متعدد مرتبہ احتجاج کرچکے ہیں، تاہم ان کے مطابق مسائل مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہوسکے۔

رپورٹ کے مطابق اسکول کی ہیڈ مسٹریس اور دیگر معلمات سے مسائل اور انتظامی مشکلات پر موقف جاننے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔

والدین اور علاقہ مکینوں نے حکومت سندھ، محکمہ تعلیم، ضلعی انتظامیہ اور چیئرمین ٹی ایم سی منگھوپیر سے مطالبہ کیا ہے کہ اسکول کی عمارت کا فوری تکنیکی معائنہ کرایا جائے، خطرناک چھتوں اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار کھڑکیوں کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کی جائے، بجلی اور پانی کی فراہمی بحال کی جائے، صفائی اور سیکیورٹی کے لیے مستقل عملہ تعینات کیا جائے، اضافی کلاس رومز اور فرنیچر فراہم کیا جائے اور اسکول کے فنڈز کے استعمال کا شفاف آڈٹ کرایا جائے۔

والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کی جان و سلامتی کسی بھی انتظامی تاخیر سے زیادہ اہم ہے، اس لیے کسی ممکنہ حادثے کے بعد کارروائی کے بجائے اسکول کی موجودہ صورتحال کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

بچوں کو محفوظ اور صحت مند ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔ سرکاری اسکول میں بجلی، صاف پانی، صفائی، محفوظ عمارت، مناسب فرنیچر اور سیکیورٹی جیسی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی بچوں کی تعلیم، صحت اور تحفظ پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

خستہ حال چھتوں اور عمارت کے ممکنہ حفاظتی خطرات کے پیش نظر متعلقہ حکام کو فوری تکنیکی معائنہ کرانا چاہیے۔ اسی طرح اسکول کے مالی معاملات، دستیاب بجٹ اور اخراجات کی شفاف تفصیلات عوام کے سامنے لانا اور ضرورت پڑنے پر آزادانہ آڈٹ کرانا عوامی اعتماد کے لیے اہم ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، بچوں کے بنیادی حقوق، تعلیم اور عوامی مسائل کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ رپورٹ فراہم کردہ تحقیقی معلومات، ذرائع، والدین اور علاقہ مکینوں کے مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اسکول کے فنڈز، انتظامی معاملات، سہولیات کی عدم فراہمی اور سیکیورٹی سے متعلق دعوؤں کی حتمی تصدیق متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور آزادانہ تحقیقات سے ہونا ضروری ہے۔ خبر میں کسی فرد یا ادارے کو کسی قانونی خلاف ورزی کا مرتکب قرار نہیں دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں